تھا میں کیا، اور کیا سے کیا ہو گیا

پیر انتظار مصور کی ایک اردو غزل

تھا میں کیا، اور کیا سے کیا ہو گیا
ترے عشق میں یوں فنا ہو گیا

نہ شکوہ، نہ اب کوئی شکایت رہی
جو میرا تھا، وہ بھی جدا ہو گیا

مِلے اتنے صدمے، سہے اتنے دکھ
لگا جیسے جینے کا حق ادا ہو گیا

عجیب اپنا بھی یہ مزاجِ دل تھا
فقط ایک مسکان پر فدا ہو گیا

مصور! ڈھونڈتی ہے دنیا جسے
وہ تیرے کوچے میں لاپتہ ہو گیا

پیر انتظار حسین مصور

پیر انتظار حسین مصور

السلام علیکم! امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے۔ میں پیر انتظار حسین مصور، ایک لکھاری کی حیثیت سے گزشتہ کچھ عرصے سے اردو ادب کے فروغ اور معاشرتی مسائل پر قلم فرسائی کر رہا ہوں۔ میرا کام باقاعدگی سے "ہم سب" اور "ڈیلی اردو کالمز" سمیت مختلف ادبی فورمز پر شائع ہوتا رہا ہے، جبکہ میں اپنا ذاتی بلاگ بھی باقاعدگی سے لکھتا ہوں۔