تھا میں کیا، اور کیا سے کیا ہو گیا
ترے عشق میں یوں فنا ہو گیا
نہ شکوہ، نہ اب کوئی شکایت رہی
جو میرا تھا، وہ بھی جدا ہو گیا
مِلے اتنے صدمے، سہے اتنے دکھ
لگا جیسے جینے کا حق ادا ہو گیا
عجیب اپنا بھی یہ مزاجِ دل تھا
فقط ایک مسکان پر فدا ہو گیا
مصور! ڈھونڈتی ہے دنیا جسے
وہ تیرے کوچے میں لاپتہ ہو گیا
پیر انتظار حسین مصور