عالمِ تنہائی میں گم ہو چکا تھا میں حضور
دشت کی گیرائی میں گم ہو چکا تھا میں حضور
عشق کی پرچھائی میں گم ہو چکا تھا میں حضور
حسن کی پہنائی میں گم ہو چکا تھا میں حضور
ایک قطرے سے سمندر کر دیا ہے آپ نے
حلم سے دامن منور کر دیا ہے آپ نے
چشمِ حیرت آرزوئے آب سے نکلا ہوں میں
آپ کے صدقے غم گرداب سے نکلا ہوں میں
در بدر تھا غفلتوں کے خواب سے نکلا ہوں میں
تھا بہت مشکل، دلِ بے تاب سے نکلا ہوں میں
آپ نے سکھلائے رازِ زندگی مجھ کو حضور
ورنہ یہ دنیا لگی تھی اجنبی مجھ کو حضور
شاعر: سہیل احمد صمیم
کتاب: الی النور