کلام خاص نوجوانوں کے لیے

ایک اردو نظم از احمد حجازی

یوں پہلی نظر کا ملنا نہ سمجھ تو اسے بہانہ محبت کا
ہے عقل پر پردہِ عشق، باقی ہے فیصلہ قدرت کا

آغاز ہوا انجام سے غافل ، یہاں قیام عارضی تیرا
ہے امتحان ہر دن ، تو مسافر ہے چند لمحات کا

نہ ہوجاؤ عین جوانی میں ، ربِ کریم سے باغی تم
نشانہ ہے ابلیس کا نوجوان ، دکھا کر بہانہ الفت کا

ہے گمان تمہیں کہ کٹ جائیں گی زندگی یوں ہی
کھوئی ہے منزلِ آخرت تم نے و راستہ ھدایت کا

غفلتوں کے سبب ہوئے پست زمانے میں ہم حجازی
کرو واپسی تم اگر دین پر ، ہوگا ذریعہ یہ نجات کا

احمد حجازی