وہ بچپن کا دور جب ہم کھیلا کرتے تھے

ایک اردو نظم از احمد حجازی

وہ بچپن کا دور جب ہم کھیلا کرتے تھے
زمانہ موبائل کا تھا نہیں آزاد رہا کرتے تھے

سکون زمانے میں تھا بہت و بے فکری
گھومتے پھرتے دل لگی کیا کرتے تھے
ماں پوچھ لے کہاں تھا بیٹا تُو جب
تو محلے کی خیریت سنا دیا کرتے تھے

وہ بچپن کا دور جب ہم کھیلا کرتے تھے
زمانہ موبائل کا تھا نہیں آزاد رہا کرتے تھے

کوئی خوشی ہو یا غم محلہ گھر تھا ہمارا
جب چاہیں جہاں چاہیں جایا کرتے تھے
خدمت تھی اپنوں کی اور غیروں کی
خدمت میں ہم اف بھی نہ کیا کرتے تھے

وہ بچپن کا دور جب ہم کھیلا کرتے تھے
زمانہ موبائل کا تھا نہیں آزاد رہا کرتے تھے

بزرگوں کا جلال دیکھ کر سہم جاتے ہم
اکرام میں انکی کمی نہیں کیا کرتے تھے
رشتوں کی مٹھاس پر دل و جان فدا
دُور ہو یا قریب رشتے نبھایا کرتے تھے

وہ بچپن کا دور جب ہم کھیلا کرتے تھے
زمانہ موبائل کا تھا نہیں آزاد رہا کرتے تھے

انتظار کرتے سبھی کے جمع ہو جانے کا
ایک دستر پر سب کھانا کھایا کرتے تھے
گزر چکا دور جب دلوں میں سکوں تھا
مہمان کی آمد رحمت سمجھا کرتے تھے

وہ بچپن کا دور جب ہم کھیلا کرتے تھے
زمانہ موبائل کا تھا نہیں آزاد رہا کرتے تھے

ترقی بہت کم تھی اس دور میں لیکن
دلوں میں سادگی و الفت رکھا کرتے تھے
اب دور حویلیوں کا رہا نہیں حجازی
رحمت کے سائے دادا دادی رہا کرتے تھے

وہ بچپن کا دور جب ہم کھیلا کرتے تھے
زمانہ موبائل کا تھا نہیں آزاد رہا کرتے تھے

احمد حجازی