تجھے مجھ سے جدائی کی اجازت ہے
محبت سے رہائی کی اجازت ہے
میں تیرے بن جو زندہ رہ رہا ہوں تو
تجھے بھی بے وفائی کی اجازت ہے
وہ تنہائی کے دکھ کو جانتا ہے سو
اسے بھی ہم نوائی کی اجازت ہے
زمانے میں برائی کر رہا ہے جو
اسی کو پارسائی کی اجازت ہے
کوئی پاؤں کو چُھو لے تو ہے مجرم پر
کسی کو تو کلائی کی اجازت ہے
اگر ہو بے وفا تو یار سن لو تم
وفا کو کاروائی کی اجازت ہے
وہ چہرے کو چھپا کر پھر رہا ہے کیوں
وہ جس کو رونمائی کی اجازت ہے
خدا ہم سے خفا ہر گز نہیں ہوگا
ہمیں دوشی خدائی کی اجازت ہے
ایم اے دوشی