کیون کارٹر (Kevin Carter)

شہباز خواجہ کی ایک اردو نظم

تم پیڑوں، پرندوں
جھیلوں اور آبشاروں کی تصویریں بناتے تو بہتر تھا
جانے کون قاتل گھڑی تھی
جب تمہارے کیمرے کی آنکھ نے انسانی چہرہ دیکھ لیا
مارچ انیس سو ترانوے
سوڈان کی آگ اگلتی زمین
بے لباس ، فاقہ زدہ
کم سن زندگی
چند قدم دور
اس کی ڈوبتی سانسیں گنتا ہوا
ایک مطمئن گدھ
تمہارے کیمرے کی بر وقت کلک
تالیاں، پذیرائی۔۔۔۔۔۔۔!!
پولِٹزرپرائز۔۔۔۔۔۔!!
ستائیس جولائی انیس سو چورانوے
تیس جمع تین کی عمر
عین اس جگہ جہاں تم بچپن میں کھیلا کرتے
یہ احساس بڑھتا ہوا
کہ تم بے لباس ، فاقہ زدہ اور بے بس وجود،
کھوکھلی تہذیب کا گدھ
تمہارے قریب منڈلاتا ہوا
تمہاری ڈوبتی سانسیں گنتا ہوا
تم جان گئے!
بڑے بڑے ایوانوں اور عبادت گاہوں میں بیٹھے
مطمئن گدھ
کبھی فاقہ نہیں کرتے
سو تم نے اپنے ہاتھوں
سانس کی آخری گرہیں بھی کھول دیں
تمہارا کیمرہ اس منظر کو تصویر نہ کر سکا

شہباز خواجہ

شہباز خواجہ

قلمی نام: شہباز خواجہ اصل نام: خواجہ محمد شہباز راولپنڈی میں پیدا ہوئے۔ میٹرک اور ایف۔اے کے امتحانات راولپنڈی بورڈ سے، جبکہ بی۔اے، ایل۔ایل۔بی اور ایم۔اے اُردو کے امتحانات پنجاب یونیورسٹی سے پاس کیے۔ 2004 میں راولپنڈی سے وکالت کا آغاز کیا۔ 2006 سے لندن (برطانیہ) میں مقیم ہیں۔ برطانیہ میں وکالت کے شعبے سے وابستہ ہیں ۔ 2023 میں Lincoln’s Inn جیسے تاریخی ادارے سے بار ایٹ لاء (بیرسٹری) مکمل کیا۔ شاعری کا آغاز 1994 میں کیا اور اسی دوران مختلف معتبر ادبی جرائد میں کلام شائع ہوا۔ 1997 میں ریڈیو پاکستان راولپنڈی کے ادبی پروگرام میں بطور شاعر شرکت کی۔ فنون، چہار سو، ادب لطیف، نیرنگِ خیال، سمبل، کولاژ، ادبیات اور بیاض سمیت کئی رسائل میں شاعری چھپتی رہی۔ 2005 میں پہلا شعری مجموعہ “آنکھ خواب بُنتی ہے” شائع ہوا جسے ادبی حلقوں میں خاصی پذیرائی حاصل ہوئی ۔ ملک گیر ادبی تنظیم “سُخن ور” کے بانی اراکین میں شامل رہے اور پہلے جنرل سیکریٹری منتخب ہوئے۔ لندن میں ادبی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کرتے رہے۔ لندن منتقل ہونے کے بعد نامور ادیب ، شاعر اور نقاد جناب ساقی فاروقی سے قریبی تعلق قائم ہوا جو 2018 میں اُن کے انتقال تک برقرار رہا۔ شہباز خواجہ کا دوسرا شعری مجموعہ “گریز” 2021 میں شائع ہوا، جسے سنجیدہ ادبی حلقوں میں خاصی پذیرائی حاصل ہوئی۔ ذیل میں اُن کا منتخب کلام پیش ہے۔