تم پیڑوں، پرندوں
جھیلوں اور آبشاروں کی تصویریں بناتے تو بہتر تھا
جانے کون قاتل گھڑی تھی
جب تمہارے کیمرے کی آنکھ نے انسانی چہرہ دیکھ لیا
مارچ انیس سو ترانوے
سوڈان کی آگ اگلتی زمین
بے لباس ، فاقہ زدہ
کم سن زندگی
چند قدم دور
اس کی ڈوبتی سانسیں گنتا ہوا
ایک مطمئن گدھ
تمہارے کیمرے کی بر وقت کلک
تالیاں، پذیرائی۔۔۔۔۔۔۔!!
پولِٹزرپرائز۔۔۔۔۔۔!!
ستائیس جولائی انیس سو چورانوے
تیس جمع تین کی عمر
عین اس جگہ جہاں تم بچپن میں کھیلا کرتے
یہ احساس بڑھتا ہوا
کہ تم بے لباس ، فاقہ زدہ اور بے بس وجود،
کھوکھلی تہذیب کا گدھ
تمہارے قریب منڈلاتا ہوا
تمہاری ڈوبتی سانسیں گنتا ہوا
تم جان گئے!
بڑے بڑے ایوانوں اور عبادت گاہوں میں بیٹھے
مطمئن گدھ
کبھی فاقہ نہیں کرتے
سو تم نے اپنے ہاتھوں
سانس کی آخری گرہیں بھی کھول دیں
تمہارا کیمرہ اس منظر کو تصویر نہ کر سکا
شہباز خواجہ