Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
نگاہِ ہجر میں رنگِ ملال دیکھا ہے
اگر قیامِ مسلسل میں وہ ستارا ہے
مرے ہم نفس مرے ہم زباں مرے مہرباں
تھا شوق بہت مجھ کو رشتوں کی مسافت کا
جو جہاں نہیں میرا اُس جہاں میں رہنا ہے
مجرم بنا دیا مرے حالات نے مجھے
دل نگر میں بھی آئیے صاحب
مرے روگ کا نہ ملال کر مرے چارہ گر
شکستہ چھت میں پرندوں کو جب ٹھکانہ ملا
زمیں کے چہرے پہ جب تلک
ایک دعا ہریالی کی
جنس اور شادی کی نفسیات
بدلتا ہوا شاہی محلہ اور بدلتے کردار
کروں گا اشکِ رواں سےوضو مدینے میں
<<
1
...
183
184
185
186
187
188
189
190
191
192
193
...
701
>>