گزارش

رباب ملک کی ایک اردو نظم

دسمبر اب کے جاو تو
قلب ناتواں کی
زیست بے کراں کی
بےقراریاں بھی لے جانا!

مگر ایک گزارش ہے
دسمبر اب کہ آو تو
دلدار پرانے لے آنا
میرے یار پرانے لے آنا

ہم چندا،تارے لائیں گے
پھرخواب سیراب ہوجائیں گے
تم یار جوانی لے آنا
وہ یار پرانے لے آنا

دسمبر !اب کہ آو تو

ہم ملکر آگ جلائیں گے
پھر کافی ،بسکٹ لائیں گے
تم اتوار پرانے لے آنا
وہ یار پرانے لے آنا

دسمبر ! اب کے آو تو !

ماہ و سال پرانے لے آنا۔۔
تم اتوار پرانے لے آنا
وہ یار پرانے لے آنا

رباب ملک

رباب ملک

اصل نام تہنیت رباب اورقلمی نام رباب ملک ہے۔ تعلق چکوال کے ایک گاوں بڈھیال سے ہے۔ مختلف اخبارات میں کالم ، افسانے ، تبصرے ، رپورٹ لکھتی رہتی ہیں ۔ دو کتابیں اشاعت کے مراحل میں ہیں ایک انگریزی سے اردو ترجمہ ہے اور ایک دیوان کی تدوین کی ہے۔