محبت اور جنگ میں سب جائز ہے۔ ایک ایسا جملہ ہے جو بظاہر سادہ مگر اپنے اندر گہری تہذیبی، نفسیاتی اور اخلاقی پیچیدگیاں رکھتا ہے۔ پاکستانی سماج سمیت دنیا کے کئی معاشروں میں یہ فقرہ ایک مُسلمہ سچائی کے طور پر دُہرایا جاتا ہے حالانکہ حقیقت میں یہ ایک متھ ہے یعنی ایسا بیانیہ جسے بار بار دہرانے سے سچ کا درجہ دے دیا گیا ہے۔ اس متھ کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے محبت اور جنگ کے تصورات کو واضح کیا جائے پھر یہ دیکھا جائے کہ کن حدود تک انسان خود کو جائز قرار دیتا ہے اور اس کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
محبت ایک گہرا انسانی جذبہ ہے جو ایثار، قربانی اور تعلق کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے۔ صوفیانہ روایت میں محبت کو خدا تک پہنچنے کا ذریعہ کہا گیا ہے۔ مولانا رومی فرماتے ہیں کہ محبت وہ آگ ہے جو ہر غیر کو جلا دیتی ہے۔ اسی طرح اُردو شاعری میں محبت کو پاکیزگی اور سچائی کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔ میر تقی میر کہتے ہیں۔
محبت میں نہیں ہے فرق جینے اور مرنے کا
اُسی کو دیکھ کر جیتے ہیں جس کافر پہ دم نکلے
یہ تصور واضح کرتا ہے کہ محبت میں شدت تو ہے مگر یہ شدت اخلاقی حدود سے باہر نہیں جاتی۔ اس کے برعکس جنگ ایک ایسا عمل ہے جس میں طاقت اور بقا کا سوال ہوتا ہے۔ جنگ کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ریاستیں اپنی حفاظت یا توسیع کے لیے لڑتی ہیں۔ کارل فان کلازویٹز نے اپنی کتاب On War میں لکھا کہ "جنگ سیاست کا تسلسل ہے مگر دوسرے ذرائع سے”۔ اس تعریف میں بھی ایک نظم اور اصول کی بات کی گئی ہے نہ کہ مکمل آزادی کی۔
اب سوال یہ ہے کہ پھر یہ متھ کیوں پیدا ہوئی کہ محبت اور جنگ میں سب جائز ہے؟
انسان جب شدید جذبات یا خطرے کی کیفیت میں ہوتا ہے تو وہ اپنے اعمال کو جائز ثابت کرنے کے لیے ایسے جملے گھڑتا ہے۔ محبت میں دُھوکا ، جھوٹ یا کسی کو حاصل کرنے کے لیے حدیں پار کرنا اس متھ کے تحت جائز سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح جنگ میں دُشمن کو نقصان پہنچانے کے لیے ہر حربہ استعمال کرنا بھی اسی سوچ کا نتیجہ ہے۔
پاکستانی سماج میں یہ متھ کئی سطحوں پر نظر آتی ہے۔ فلموں، ڈراموں اور کہانیوں میں عاشق کو ہیرو بنا کر دکھایا جاتا ہے چاہے وہ کسی کی پرائیویسی کی خلاف ورزی کرے یا سماجی اُصول توڑے۔ اسی طرح جنگی بیانیے میں دُشمن کو مکمل برائی کا استعارہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے جس سے ہر اقدام درست محسوس ہونے لگتا ہے۔ یہ بیانیہ جذبات کو اُبھارتا ہے اور سوچنے کی صلاحیت کو محدود کر دیتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ نہ محبت میں سب جائز ہے اور نہ جنگ میں۔ اخلاقیات ہر حالت میں ایک حد قائم کرتی ہیں۔ محبت اگر کسی کی آزادیِ عزت یا رضامندی کو نظر انداز کرے تو وہ محبت نہیں بلکہ خود غرضی ہے۔ اسی طرح جنگ کے بھی اُصول ہوتے ہیں جنہیں بین الاقوامی قوانین میں واضح کیا گیا ہے جیسے جنیوا کنونشن جس میں شہریوں کے تحفظ اور قیدیوں کے حقوق کی بات کی گئی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جنگ میں بھی سب کچھ جائز نہیں۔
اس متھ کے کچھ وقتی فائدے ضرور ہوتے ہیں۔ یہ افراد کو اپنے عمل کا جواز فراہم کرتی ہے اور مشکل حالات میں فیصلہ کرنا آسان بناتی ہے۔ محبت میں یہ جملہ عاشق کو ہمت دیتا ہے اور جنگ میں سپاہی کو حوصلہ دیتا ہے۔ اس مثبت رُجحان کے برعکس اس کے نقصانات کہیں زیادہ ہیں۔ یہ اخلاقی زوال کا باعث بنتی ہے کیونکہ جب ہر چیز جائز قرار دے دی جائے تو پھر درست اور غلط کا فرق مٹ جاتا ہے۔ اس سے معاشرے میں بد اعتمادی اور انتشار بڑھتا ہے۔
اُردو ادب میں بھی اس متھ کی نفی کی گئی ہے۔ فیض احمد فیض نے محبت کو ظلم کے خلاف کھڑا ہونے کا نام دیا نہ کہ ظلم کرنے کا۔ وہ کہتے ہیں۔
اور بھی دُکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا
اس مفصل تمہید کا مطلب یہ ہے کہ محبت اور جنگ میں سب جائز ہونے کا تصور دراصل انسانی کمزوریوں کا جواز ہے نہ کہ کوئی ابدی سچائی۔ محبت اگر سچ ہے تو وہ احترام، رضامندی اور ذمہ داری سے منسلک ہوتی ہے نہ کہ دُھوکے، جبر اور خود غرضی سے۔
اسی طرح جنگ اگر ناگزیر بھی ہو تو اس کے اندر بھی اخلاقی حدود اور انسانی قدریں برقرار رہتی ہیں۔
تاریخ اور ادب دونوں اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ وہی معاشرے پائیدار ثابت ہوتے ہیں جو اُصولوں کو بحران کے وقت بھی نہیں چھوڑتے۔
یہ متھ وقتی طور پر جذبات کو سہارا تو دیتی ہے مگر طویل مدتی عمل میں فرد اور معاشرے دونوں کو نقصان پہنچاتی ہے۔
یہ درست اور غلط کے درمیان حد کو دُھندلا دیتی ہے اور انسان کو اپنی خواہشات کا غلام بنا دیتی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ایسے بیانیوں کو بغیر سوچے سمجھے قبول کرنے کے بجائے ان پر تنقیدی نظر ڈالیں۔
محبت کو پاکیزگی اور ذمہ داری کے ساتھ اور جنگ کو اُصول و انصاف کے دائرے میں سمجھنا ہی ایک مہذب اور متوازن معاشرے کی بنیاد ہے۔
محسن خالد محسن