محسن خالد محسن کی نظم”میں غلام نہیں ہوں”

نسائی جائزہ از ڈاکٹر عظمیٰ نورین

پاکستانی معاشرہ تاریخی، ثقافتی اور مذہبی حوالوں سے ایک پیچیدہ بیانیہ رکھتا ہے جس میں عورت کی حیثیت ہمیشہ ایک بحث طلب موضوع رہی ہے۔ عورت کو ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کے مقدس رشتوں میں عزت دی جاتی ہے مگر عملی سطح پر اس کے حقوق اکثر محدود اور مشروط نظر آتے ہیں۔ اسی تضاد کو جدید اُردو نظم میں نہایت شدت اور شعور کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
محسن خالد محسنؔ کی نظم "میں غلام نہیں ہوں” اسی نسائی شعور کی ایک توانا آواز ہے جو عورت کو محض ایک تابع وجود ماننے کے تصور کو رَد کرتی ہے۔یہ نظم ان کے مجموعے”محبت معاہدہ نہیں "سے انتخاب کی گئی ہے۔
یہ نظم عورت کے داخلی کرب، اس کے شعوری ارتقا اور اس کی آزادی کی خواہش کا اظہاریہ ہے۔ شاعر نے ایک نسائی کردار کی آواز میں وہ تمام سوالات اُٹھائے ہیں جو صدیوں سے دبائے جاتے رہے۔ نظم کا آغاز ہی ایک واضح انکار سے ہوتا ہے۔

"تمہاری ہر بات
مان لینا کوئی فریضہ نہیں”

یہ مصرعہ پدر سری نظام کے بنیادی اُصول یعنی عورت کی غیر مشروط اطاعت کو چیلنج کرتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں عورت سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ مرد کے ہر حکم کو بلا چون و چرا تسلیم کرے۔ یہاں شاعر اس روایت کو مسترد کرتے ہوئے عورت کو ایک خودمختار وجود کے طور پر پیش کرتا ہے۔
اسی طرح اس نظم میں آزادی کے تصور کو نہایت خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے

"میں آزاد پیدا ہوئی تھی
اور آزادی
کوئی زیور نہیں
جسے موقع دیکھ کر پہنا اور اُتار دیا جائے”

یہاں آزادی کو کسی عارضی شے کی بجائے ایک بنیادی انسانی حق کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ عورت کی آزادی کو معاشرتی حالات کے پیشِ نظر محدود یا وسیع کیا جاتا ہے جبکہ شاعر اس تصور کو رد کرتے ہوئے اسے سانس سے تشبیہ دیتا ہے۔

"یہ تو سانس کی طرح ہے
روکی جائے
تو روح نیلی پڑنے لگتی ہے”

یہ استعارہ نہایت گہرا ہے۔ جس طرح سانس کے بغیر زندگی ممکن نہیں اسی طرح آزادی کے بغیر انسانی وجود گھٹن کا شکار ہو جاتا ہے۔ یہ مصرعے اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ عورت کی آزادی کوئی رعایت نہیں بلکہ اس کی بنیادی ضرورت ہے۔
مذکورہ نظم میں روایت اور اختیار کے تصادم کو بھی بڑی شدت سے بیان کیا گیا ہے۔

"تم کہتے ہو روایت
میں پوچھتی ہوں
کیا ہر وراثت قابل فخر ہوتی ہے”

یہ سوال محض ایک ادبی اظہار نہیں بلکہ ایک فکری بغاوت ہے۔ پاکستانی معاشرے میں بہت سی روایات کو محض اس لیے برقرار رکھا جاتا ہے کہ وہ وراثت ہیں چاہے وہ انسانی حقوق کے خلاف ہی کیوں نہ ہوں۔ شاعر ان روایات کو چیلنج کرتے ہوئے یہ باور کراتا ہے کہ ہر روایت قابل قبول نہیں ہوتی؛ خاص طور پر وہ روایت جو عورت کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑتی ہے۔
اسی تناظر میں نظم کا ایک اور اہم حصہ ملاحظہ کیجئے ۔

"انسانوں کو غلام بنانے کا ہنر
کسی عظیم الشان تہذیب کا کمال نہیں
یہ صرف
بیمار ذہن کی ایجاد ہے”

یہاں شاعر نہایت جرات مندی سے اس سوچ کو بے نقاب کرتا ہے جو غلامی کو تہذیب کا حصہ سمجھتی ہے۔ اصل میں یہ ایک ذہنی بیماری ہے جو خوف اور طاقت کے ذریعے اپنی بقا قائم رکھتی ہے۔ یہی وہ سوچ ہے جو عورت کو کمتر اور تابع بنائے رکھتی ہے۔
نظم میں مرد کے ورثے میں ملنے والے اقتدار کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

"تم نے جو کچھ پایا
اپنے بڑوں کی الماریوں سے
میں جانتی ہوں
وہ تمہاری کمائی نہیں تھا”

یہاں شاعر اس حقیقت کو بیان کرتا ہے کہ مرد کو حاصل اختیار اس کی ذاتی قابلیت کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک سماجی وراثت ہے۔ یہ وراثت پدر سری نظام کی پیداوار ہے جس میں مرد کو پیدائشی برتری حاصل ہوتی ہے۔
نظم کا سب سے طاقتور پہلو عورت کی خود شناسی ہے۔

"میں
اپنی پیشانی پر
کسی اور کا لکھا ہوا نام
قبول نہیں کرتی”

یہ مصرعہ عورت کی شناخت کے مسئلے کو اُجاگر کرتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں عورت کی پہچان اکثر کسی مرد کے ساتھ وابستہ ہوتی ہے۔ یہاں شاعر عورت کو اپنی شناخت خود تخلیق کرنے کا حق دیتا ہے۔
اسی طرح شعور کی اہمیت کو بھی اس نظم میں بخوبی واضح کیا گیا ہے۔

"نسب اگر تقدیر ہے بھی
تو شعور
اس کی ترمیم کر سکتا ہے”

یہ ایک انقلابی خیال ہے۔ شاعر یہ باور کراتا ہے کہ اگرچہ انسان کا پس منظر اس کی تقدیر کا حصہ ہو سکتا ہے اور اس کا شعور اسے بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہی شعور عورت کو غلامی کے دائرے سے باہر نکال سکتا ہے۔
نظم میں عورت کے اندرونی کرب کو بھی نہایت مؤثر انداز میں بیان کیا گیا ہے۔

"زخم وقت کی دُھوپ میں سوکھ جائیں گے
وہ اندر ہی اندر
گلتے رہے
لفظوں کے نیچے پیپ بنتے رہے”

یہ اشعار اس اذیت کی عکاسی کرتے ہیں جو عورت خاموشی سے سہتی رہتی ہے۔ اس کے دُکھ اکثر بیان نہیں ہوتے بلکہ اندر ہی اندر ناسور بن جاتے ہیں۔
محبت کے تصور کو بھی شاعر نے نئے زاویے سے پیش کیا ہے۔

"محبت
گھٹن میں نہیں پلتی
وہ کھلی فضا مانگتی ہے
برابر کی آنکھ
برابر کی آواز”

یہاں محبت کو برابری کے اُصول پر قائم کیا گیا ہے۔ پدر سری معاشرے میں محبت بھی اکثر طاقت کے توازن سے متاثر ہوتی ہے جبکہ شاعر اس تصور کو رد کرتے ہوئے برابری کو محبت کی بنیاد قرار دیتا ہے۔
نظم کے اختتام پر عورت کا اعلانِ آزادی نہایت پُراثر ہے۔

"میں یہاں
اپنی زمین پر کھڑی ہوں
اپنے نام کی مالک
اپنی سانس کی وارث
غلاموں کو
اطاعت ہی زیب دیتی ہوگی
مگر میں
غلام نہیں ہوں”

یہ اعلان محض ایک فرد کا نہیں بلکہ ہر اس عورت کی آواز ہے جو اپنی شناخت اور آزادی کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔
اکیسویں صدی میں عورت کا کردار محض گھریلو دائرے تک محدود نہیں رہا۔ وہ تعلیم، سیاست، معیشت اور سماج کے ہر شعبے میں فعال کردار ادا کر رہی ہے۔ پاکستان میں بھی خواتین نے مختلف میدانوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں؛ اس کے باوجود پدر سری سوچ اب بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔
اس نظم کے تناظر میں دیکھا جائے تو عورت کی اصل اہمیت اس کی خودمختاری، شعور اور شناخت میں پوشیدہ ہے۔ جب تک عورت کو برابر کا انسان تسلیم نہیں کیا جائے گا؛ معاشرہ حقیقی ترقی حاصل نہیں کر سکتا۔
محسن خالد محسنؔ کی نظم "میں غلام نہیں ہوں” ایک نسائی مزاحمت کی علامت ہے جو عورت کو غلامی کے استعارے سے آزاد کر کے ایک خودمختار اور باشعور وجود کے طور پر پیش کرتی ہے۔ یہ نظم نہ صرف پاکستانی معاشرے کی پدر سری ساخت پر تنقید کرتی ہے بلکہ عورت کو اپنی شناخت اور آزادی کے لیے آواز بلند کرنے کا حوصلہ بھی دیتی ہے۔
یہ کہنا درست ہے کہ عورت غلامی کا استعارہ نہیں بلکہ ایک مکمل انسان ہے اور اس کی آزادی ہی ایک مہذب معاشرے کی اصل پہچان ہے۔

ڈاکٹر عظمیٰ نورین