ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں انسان دکھائی بہت دیتا ہے، مگر سمجھ میں کم آتا ہے۔ ہر شخص اسکرین کے پیچھے ایک مکمل زندگی گزار رہا ہے، مگر اصل زندگی کہیں پیچھے رہ گئی ہے۔
آج کل ہم سب کے پاس دو چہرے ہیں۔ ایک وہ جو ہم دنیا کو دکھاتے ہیں، اور ایک وہ جو ہم خود سے بھی چھپاتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ہم مسکراتے ہوئے نظر آتے ہیں، کامیاب، خوش اور مطمئن دکھائی دیتے ہیں، مگر حقیقت میں ہمارے اندر کئی سوال، کئی خوف اور کئی ادھورے پن چھپے ہوتے ہیں۔
یہ اسکرین ہمیں ایک عجیب سی طاقت دیتی ہے۔ ہم اپنی مرضی کی تصویر بنا سکتے ہیں، اپنی مرضی کی کہانی سنا سکتے ہیں، اور اپنی مرضی کا تاثر دے سکتے ہیں۔ مگر اس سب کے دوران ہم آہستہ آہستہ اپنی اصل پہچان کھو دیتے ہیں۔
کبھی کبھی ایسا لگتا ہے کہ ہم جتنے زیادہ لوگوں سے جڑ رہے ہیں، اتنے ہی زیادہ خود سے دور ہو رہے ہیں۔ ہم دوسروں کی زندگیوں میں جھانکنے میں مصروف ہیں، مگر اپنی زندگی کو دیکھنے کا وقت نہیں نکالتے۔
ایک وقت تھا جب لوگ ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھ کر بات کرتے تھے، ہنستے تھے، دکھ سکھ بانٹتے تھے۔ آج وہی لوگ ایک ہی کمرے میں بیٹھ کر بھی موبائل میں گم ہوتے ہیں۔ باتیں کم ہو گئی ہیں، احساسات کم ہو گئے ہیں، اور رشتے بھی کہیں نہ کہیں کمزور ہو گئے ہیں۔
اسکرین کے پیچھے چھپا ہوا انسان شاید خود بھی نہیں جانتا کہ وہ اصل میں کیا چاہتا ہے۔ وہ بس ایک دوڑ میں شامل ہے، جہاں سب ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں، مگر کسی کو یہ نہیں معلوم کہ منزل کہاں ہے۔
ہمیں ضرورت ہے کہ ہم تھوڑا رکیں، خود کو دیکھیں، اور یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ ہم اصل میں کون ہیں۔ کیا ہم وہی ہیں جو اسکرین پر نظر آتے ہیں؟ یا وہ جو خاموشی میں خود سے بات کرتے ہیں؟
زندگی کا حسن اس میں نہیں کہ ہم دنیا کو کیا دکھاتے ہیں، بلکہ اس میں ہے کہ ہم خود کے ساتھ کتنے سچے ہیں۔ اگر ہم خود سے جڑ جائیں، تو شاید ہمیں دنیا سے جڑنے کے لیے اسکرین کی ضرورت ہی نہ پڑے۔
کیونکہ آخر میں، انسان وہی ہوتا ہے جو وہ تنہائی میں ہوتا ہے، نہ کہ وہ جو وہ دنیا کو دکھاتا ہے۔
خیر اندیش
نعمان علی بھٹی