نہ جانے کیا بات تھی اس شخص میں

نگار فاطمہ انصاری کی ایک اردو غزل

نہ جانے کیا بات تھی اس شخص میں
لگتا ہے جیسے کائنات تھی اس شخص میں

پل بھر میں میرے آشیاں کو خاک کر گیا
آخر برق جیسی صفات تھی اس شخص میں

شہزادیاں اسے محبوب کا درجہ دیتی تھی
عاشقوں کے لیےساحلِ نجات تھی اس شخص میں

شب ہجر کی ویرانیوں کی مانند
گزری مدت -حیات تھی اس شخص میں

میں نے اس لئے بھی اس کا سخت لہجہ سہا
آخر غموں کی سوغات تھی اس شخص میں

نگار فاطمہ انصاری

نگار فاطمہ انصاری

نگار فاطمہ انصاری قلمی نام ہے ۔ تعلق یوپی کے مرادآباد ضلع سے ہے - اور 2024 میں شاعری کی دنیا میں قدم رکھا۔