مقید ہوں میں اِک آئینہ خانے میں یہ کیسا آئینہ خانہ ہے جس میں میرے چہرے کی جگہ اب ہر طرف تیرا ہی چہرہ ہے رہائی کی کوئی صورت نہیں ممکن بدن سے روح تک پھیلے سفالِ جاں کے ذرّے ذرّے پر جاناں عجب رُخ سے ترے شوریدہ چشم و لب کا پہرا ہے
ایوب خاور
ایک اردو نظم از محمد یوسف برکاتی
تجدید قیصرکی ایک اردو غزل
اردو غزل از بشیر بدر
محمد یوسف میاں برکاتی کی ایک اردو نظم
ایک اردو غزل از ایم اے دوشی