مقید ہوں میں اِک آئینہ خانے میں یہ کیسا آئینہ خانہ ہے جس میں میرے چہرے کی جگہ اب ہر طرف تیرا ہی چہرہ ہے رہائی کی کوئی صورت نہیں ممکن بدن سے روح تک پھیلے سفالِ جاں کے ذرّے ذرّے پر جاناں عجب رُخ سے ترے شوریدہ چشم و لب کا پہرا ہے
ایوب خاور
سردار حماد منیر کی ایک اردو غزل
ایک اردو غزل از رشید حسرت
نگار فاطمہ انصاری کی ایک اردو غزل
از پروفیسر اویس خالد