مقید ہوں میں اِک آئینہ خانے میں یہ کیسا آئینہ خانہ ہے جس میں میرے چہرے کی جگہ اب ہر طرف تیرا ہی چہرہ ہے رہائی کی کوئی صورت نہیں ممکن بدن سے روح تک پھیلے سفالِ جاں کے ذرّے ذرّے پر جاناں عجب رُخ سے ترے شوریدہ چشم و لب کا پہرا ہے
ایوب خاور
ڈاکٹر الیاس عاجز کی ایک غزل
محسن خالد محسن کی ایک اردو نظم