دل درد پہ مائل کرتا ہوں
میں خود کو گھائل کرتا ہوں
میں ذہین جلا کے رقص کروں
میں تاج کو پائل کر تا ہوں
میں ریت سمندر لکھتا ہوں
طوفان ساحل کر تا ہوں
میں عشق شرر ہر سانس میں ہوں
میں درد کو جنگل کر تا ہوں
میں برق ہوں اپنی کھٹیا کی
میں آنسو باد ل کرتا ہوں
میں صحرا دھوپ دھمالی ہوں
میں چھالے چھاگل کرتا ہوں
میں دیس پجاری تُو دیوی
میں پر چم آنچل کرتا ہوں
ڈاکٹر عرفان احمد بیگ