ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ یہاں علم، ادب اور تاریخ کی قدریں روز بروز پامال ہو رہی ہیں۔ جہاں کبھی تحقیق، ریاضت اور علمی امانت داری کو سر آنکھوں پر بٹھایا جاتا تھا، وہاں آج کاہلی، آسان پسندی اور دوسروں کے افکار پر ڈاکہ ڈالنے کی وبا عام ہو چکی ہے۔ کسی کے کلام، مضمون یا نظریے کو چرا کر اپنے نام سے چپکانا نہ صرف علمی بددیانتی ہے بلکہ اخلاقی دیوالیہ پن کا بھی منہ بولتا ثبوت ہے۔
اردو کے نامور اور جرات مند شاعر محسن بھوپالی نے دہائیوں پہلے ہماری اسی منافقانہ روش اور ادبی سرقہ پر بڑی گہری چوٹ کی تھی۔ لیکن المیہ دیکھیے کہ جس غزل میں ادبی چوری پر ماتم کیا گیا تھا، آج کے کالم چور اور سوشل میڈیا کے ‘خود ساختہ’ دانشور اسی غزل کو بھی محسن بھوپالی سے چھین کر کسی اور سے منسوب کر کے اپنے نام کی واہ واہ سمیٹ رہے ہیں۔ ان کی یہ جاویداں غزل ملاحظہ کیجیے:
جاہل کو اگر جہل کا انعام دیا جائے
اس حادثۂ وقت کو کیا نام دیا جائے
میخانے کی توہین ہے رندوں کی ہتک ہے
کم ظرف کے ہاتھوں میں اگر جام دیا جائے
ہے خوئے ایازی ہی سزاوارِ ملامت
محمود کو کیوں طعنۂ اکرام دیا جائے
ضد ہے کہ انہیں مان کے سرخیلِ بہاراں
غنچوں کی طرف سے کوئی پیغام دیا جائے
ہم مصلحتِ وقت کے قائل نہیں یارو!
الزام جو دینا ہے سرِعام دیا جائے
بہتر ہے کہ اس بزم سے اٹھ آئیے محسنؔ
سرقے کو جہاں رتبۂ الہام دیا جائے
محسن بھوپالی کا یہ مقطع محض ایک شعر نہیں بلکہ فکر و دانش کے ایوانوں پر ایک زبردست طماچہ ہے۔ "سرقہ” کی لغوی اور اصطلاحی تعریف یہی ہے کہ کسی دوسرے کی محنت، کلام، الفاظ اور افکار کو چوری کر کے اپنی ملکیت بنا کر پیش کیا جائے۔ لیکن موجودہ دور میں اس چوری اور جعل سازی نے ایک نیا اور خطرناک روپ دھار لیا ہے۔
آج کے اس سائنسی اور جدید دور میں جہاں مصنوعی ذہانت (AI) نے تحقیق کے نئے افق کھولے ہیں، وہیں کاہل اور نااہل لوگوں کو جعل سازی کا ایک نیا ہتھیار بھی تھما دیا ہے۔ لوگ اے آئی کے ذریعے دوسروں کے مضامین اور کلام میں لفظی الٹ پھیر کر کے اسے اپنی تخلیق بتاتے ہیں، اور حد تو یہ ہو چکی ہے کہ من گھڑت قصے، جھوٹے تاریخی واقعات اور فرضی اسناد تیار کر کے اپنے اور دوسروں کے حسب و نسب اور شجروں تک کی پیوند کاری کر رہے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ محسن بھوپالی نے یہ غزل خاص طور پر انہی لفظوں کے ڈاکوؤں، شجرے بدلنے والے چوروں اور نسب کے جعلی دعویداروں کے لیے کہی تھی۔
جب کسی معاشرے میں اصل تحقیق کار کو پسِ پشت ڈال دیا جائے، سرقہ شدہ کلام پر داد دی جانے لگے اور مصنوعی ذہانت سے من گھڑت تاریخ و شجرے گھڑنے والوں کو "علامہ” تسلیم کر لیا جائے، تو سمجھ لیجیے کہ اس قوم کا علمی اور اخلاقی سفر معکوس سمت میں شروع ہو چکا ہے۔ جب چوری، جعل سازی اور نقل کو "الہام” اور "صلاحیت” کا رتبہ دیا جائے تو پھر محسن بھوپالی کے بقول ایسی مصلحت پسند بزم سے اٹھ آنا ہی خودداری اور قلم کی حرمت کا تقاضا ہوتا ہے۔
قلم کا سودا کرنے والوں، شجروں کی پیوند کاری کرنے والوں اور لفظوں کے ڈاکوؤں کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ تاریخ کبھی کسی کے ساتھ رعایت نہیں کرتی۔ مصنوعی وسائل اور مانگے کے اجالوں سے چند لمحوں کے لیے تو بزم روشن کی جا سکتی ہے، مگر حق، نسب اور فکر کا حقیقی نور ہمیشہ سچائی اور محنت ہی کے افق سے طلوع ہوتا ہے۔
پیر انتظار حسین مصور