چاند روتا سورج

تحریر: سہیل احمد صمیمؔ

پروفیسر عادل سعید قریشی کی افسانوں کی کتاب "چاند روتا سورج” کا جمالیاتی جائزہ

تخلیق کو کائنات کا سب سے پہلا عمل ہونے کی وجہ سے باقی تمام عوامل پر فوقیت حاصل ہے اور انسان خالق سے محبت یا نفرت اُسکی تخلیق کی بنیاد پر ہی کرتا ہے۔ جس کی پہلی وجہ یہ ہے کہ ہر تخلیق میں اس کے خالق کا کمالِ فن، شعوری و لاشعوری مزاج، پسند نا پسند، خوبیاں اور خامیاں شامل ہوتی ہیں، جو وقت کے ساتھ ساتھ یا عقل و دانش کے حساب سے انسان پر ظاہر ہوتی ہیں اور دیکھنے والے انسان کو محبت یا نفرت پر مجبور کرتی ہیں۔ اِسی طرح تخلیقاتِ سخن میں بھی یہ تمام عناصر بکثرت موجود ہوتے ہیں جس سے سخنور کے اسلُوب، مزاج اور توازن، شخصیت کا اندازہ لگایا جاتا ہے کیونکہ تخلیقاتِ سخن پر وقت کی گردش، اردگرد کے ماحول اور زمانوں کے سائے کا غلبہ غالب رہتا ہے جو کسی بھی موضوع میں جدیدیت اور عوامیت کی جھلک پیدا کرتا ہے اور تخلیق کا رکی انفرادیت اور مقبولیت کی وجہ بھی بنتا ہے اور چار چاند بھی لگا سکتا ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہیکہ اس عوامیت اورجدیدیت مزاجی کی راہ پر بہت سے تخلیق کار بطورِ فیشن بھی چلتے ہیں مگر اثراتِ ماحول کی تلخیات اُن پر گُزری نہیں ہوتی اور نہ ہی اُن کے مزاج میں مذکورہ اوصاف کی جھلک پائی جاتی ہے۔ جس سے اُن کی تخلیقات معیارکے فلک کو چھو تک نہیں سکتی اور بناوٹی ہو کر رہ جاتی ہیں جنہیں "بے عیب بُرا” بھی کہا جا سکتا ہے۔
جیسے گرمیوں کے موسم میں ٹھنڈے اے سی کے کمرے میں بیٹھ کر روایات، رسمیات کے خانوں سے مزدُور کے حالات، مال و زر کے دامن میں بیٹھ کر مفلسی بیان کرنے سے دوڑ میں شامل ہونے کا مقصد تو پورا ہوجاتاہے مگر حق ادا نہیں ہوتا اور نہ ہی حقِ ادائیگی کی قربت میسر ہوتی ہے۔ اور جو لوگ اس ماحول کے اصل رنگ میں خود کو رنگتے ہیں اُن کے لئے تخلیقاتِ سخن کی گرہیں مزید کھول دی جاتی ہیں جس سے پڑھنے والے قاری کو تخلیق کار کی تخلیق میں اپنا عکس نظر آنے لگتا ہے اور خود پر سُرور طاری کر لیتا ہے۔
۶۱ افسانوں کی کتاب "چاند روتا سورج” میرا موضوع سخن ہے۔ جوپروفیسر عادل سعید قریشی کی تخلیق ہے۔ افسانہ ایک نازک صنف نثر ہے اور اس کے تقاضے غزل کی طرح بڑی توجہ چاہتے ہیں۔ افسانہ وحدت تاثر، موضوع،کرافٹنگ اور افسانوی پن کا متقاضی ہوتا ہے۔ اختصار کا دھیان اس صنف کا بہت خاص پہلو ہوتا ہے۔ کہانی کی تلاش اور اس میں تجسس،معنویت اور قاری کی توجہ کا حاصل کرنا بہت اہم تقاضے ہیں۔اسی خیال کے پیش نظر جب اس کتاب کو پڑھنا شروع کیا تو ایک تازگی اور لطافت کا احساس ہوا۔ کتاب میں میرا پسندیدہ افسانہ ہے جو ایک عشق لا حاصل کو اعترافیہ افسانہ بنام ” میرا نامہ میری زوجہ کے نام” ہے۔ باقی افسانوں پر بھی بات ہو گی مگر اس افسانے نے بہت لطف دیا۔
افسانہ”میرا نامہ میری زوجہ کے نام” اپنے موضوع کے اعتبار سے نیا نہیں ہے مگر اپنی ہیئت انداز، اسلُوب اور بیانیہ کے اعتبار سے بہت الگ ہے۔جیسا کے نام سے ظاہر یہ خط زوجہ محترمہ کے نام ہونے کی وجہ سے لگتا یوں ہے جیسے مصنف نے اِسے صرف زوجہ کے نام کسی دوسرے ملک میں بیٹھ کر لکھا ہو گا اور اپنے احساسات کا اظہار کیا ہو گا اور اپنے گھر آنے کی خبردے رہا ہے یازوجہ کے ذمے کچھ کام سونپ رہا ہو گا۔یا اس کی تعریف میں لکھا گیا ہو گامگر حقیقت میں ایک ہی گھر میں بیٹھ کر لکھا گیاوہ خط اُن کی پہلی محبت کی داستان ہے۔ جہاں مصنف کی جگہ پر عادل صاحب خود کھڑے ہیں اور اُن کے
ایک طرف پہلی محبت کا راز اور دوسری جانب طرف زوجہ،
ایک طرف اوائل عمر کا عشق اور دوسری جانب حقیقی محبت، ایک طرف بکھرا ہوا عادل اوردوسری طرف سہما سمٹا عادل،
ایک طرف ماضی کی محبت کی زلفوں کی اسیری تو ایک طرف زوجہ کی بے لوث و سادہ محبت و اعتبار،
ایک طرف کہانی اوردوسری طرف حقیقت ہے۔بیچ میں کھڑے عادل۔۔۔۔یقیناً اس افسانے کی تخلیق کے وقت ہر چیز اور کردارنے افسانہ نگارسے بڑی دلیری کا تقاضا کیا ہو گا۔حق لگتی تو یہ ہے افسانہ نگار نے اس افسانے کے ساتھ انصاف کیا ہے۔ نفسیات کی آنچ پراس افسانے میں ایک نرالاپن اور روانی پیدا کی اور انسانی جذبات و احساسات کا ایسا خیال اور لحاظ رکھا گیا ہے کہ قاری کو واقعات کی ترتیب سے پیدا ہونے والے حالات اپنی گرفت میں ایسا لیتے ہیں کہ آخری لفظ تک آپ اس کے سحر سے باہر نہیں نکل پائیں گے۔افسانہ پڑھتے ہوئے کئی جگہوں پرآپ کو رکنا پڑے گا اورکتاب بند کرنا پڑے گی اور سوچنا پڑے گا کہ "ایسا ہی ہو سکتا ہے،کیوں ایسا نہیں ہو سکتا نہیں نہیں ایسا ہی ہوا ہو گا اور ایسا ہو سکتا ہے بلکہ ایسا ہی ہُوا ہوگا "اور پھر آپ آگے پڑھنے لگ جائیں گے۔
اِس شاہکار افسانے کے دونوں کرداروں کو بہت خوب نبھایا گیاہے۔ کیونکہ اگر افسانے سے نام "عادل” کی جگہ کوئی اور نام ہوتا تو سوانحی حوالہ بدل جاتا اور اس افسانے کا تاثر، اس کی اصل چاشنی، لطف اورسرور خاصا کم ہو کر رہ جاتا۔ کہانی حقیقت پر مبنی یا افسانہ ہے ہیرو کے نام نے اس کے اثر کو خوب بڑھا دیا ہے۔
"وہ بھی میرے ساتھ باتیں کرنے کی رغبت رکھتی وہ بھی حیلے بہانے سے اپنے نرم ونازک ہونٹوں
سے میرا نام بولنے لگی، اپنا نام عادل اس قبل مجھے اتنا پیارا کبھی نہیں لگا جتنا اُس کے منہ سے لگتا تھا۔
عادل کو تم بھی بہت خوبصورتی سے ادا کرتی ہو میرے کانوں کو بھلا لگتا ہے اور وہ ” ع”کے بعد "الف”
کو ذرا کھینچ کر” دال” کے نیچے زیر کو اتنا تیز بولتی کی میرے کان آ۔۔۔۔۔۔۔۔۔دل۔۔۔سنتے تھے۔

” جان! میرا تو دل ڈوب گیا۔۔۔بت بنا کھڑا اس کا منہ تکنے لگا۔۔دسمبر کی سردی میں ماتھا پسینے سے
سج گیا۔۔۔وہ کچھ دیر کھڑی رہی اور چل دی۔ میری انگلیاں جب سگریٹ کی حدت سے جلیں تو میں
جاگا، سگریٹ پھینکا۔ کوٹ اتار دیا۔ ہر سو اندھیرا تھا، جوں زندگی پر رات طلوع ہوئی ہو”

خدا کی قسم!تم جب میرے پاس ہوتی ہو،میرے قریب ہوتی ہو تو عدیلہ کا کہیں نام و نشان نہیں ہوتا
لیکن جب تم کچن میں جاتی ہو یا برآمدے میں جھاڑو دے رہی ہوتی ہو یا جیسے تم آج کل تم سردی کی
چھٹیاں گزارنے اپنے میکے میں ہو تو وہ نجانے کہاں سے آ ٹپکتی ہے جیسے ٹھنڈے کمرے میں ٹھہری ٹھنڈک
،کسی یخ بستہ شام میں بند ہیٹر کی حدت یا ساون کی اڑتی کوئی بدلی برآمدے میں آ ٹکے،
یا جیسے عطر کی کوشبو کاکوئی جھونکااپنی طرف متوجہ کر کے گزر جائے یا قہقہے کی بھولی بسری
صدا یا وصل کے چند لمحوں میں ایک لمحہ میرے کندھوں کو چھوتا جائے۔۔۔۔۔

"اگر تم نہ ہوتیں تو تیرا عادل شاید زندگی بھر سنبھلتا اور اُس روگ کا روگی بنا، دنیا کے لئے
تماشہ بنا پھرتا۔ شکریہ تیرے بے لوث اور سادہ محبت کا جس نے مجھے اپنی بانہوں میں
سمیٹ لیا۔اور مہرانی اِس توجہ اور پیار کے جس نے مجھے زندگی کی راہوں پر پھر رونہ کیا
اور تم نے اپنی معصومیت اور برداشت سے میری زندگی سنوار دی”

اسی طرح دیگر افسانوں میں بھی افسانہ نگار کی شخصیت اور انفرادیت کی جھلک موجود ہے اور یہی وہ خوبی ہے جس سے کسی فرد واحد کا اسلوب اس کو باقی مصنفین سے الگ کرتا ہے۔اِس بات میں کوئی شک نہیں کہ انسان کی تربیت، ماحول اور خیالات ہی ہر تخلیق کا اسلوب بن کر ظاہر ہوتے ہیں جو اگر موضوع کے دائرہ میں اپنی جگہ بنالیں تو لطف دوبالا کر دیتے ہیں۔ عادل سعید قریشی کا اسلوب میں ایک گونہ تازگی،جدا ترکیب سازی اور الفاظ کو سنجیدہ دروبست ان کے اسلوب کو ایک شناخت بخشتا ہے۔ اسلوب کی بحث کو پھر کسی وقت کے لیے اٹھا رکھتا ہوں۔ ان کے ہاں ملنے والے مضامین بھی ان کے الگ اسلوب کے ممد و معاون ہیں۔ان کے افسانوں میں رشتوں کی پاسداری کا احساس،مکافاتِ عمل پر یقین،خودداری، خیر کی تلاش،تصوف،رومانیت،دیہات،ہزارہ اور ہندکو کے اثرات نمایاں ہیں۔ یہ تمام نکات عادل سعید قریشی کی خیالات کی پاکیزگی اور معاشرتی اقدار کی ترویج میں مثبت کردار ادا کرنے کے لگن کو ظاہر کرتے ہیں۔ شیشے کے اس پار،حرام جنا،صور، چاند روتا سورج ان کے نمائندہ حوالے ہیں۔بیان کردہ تمام نکات افسانوں میں بہت سی مثالیں د ی جا سکتی ہیں مگر طوالت کے خوف سے مثالوں سے اعتراز برت رہا ہوں،رشتے ناخن ایک الگ موضوع پر لکھا گیا افسانہ ہے۔ اسی طرح ڈائن اور نواں شہر جیسے افسانے اس افسانہ نگار کو نسفیاتی افسانہ نگاروں میں شامل کر دیتے ہیں۔ نواں شہر افسانے میں عہد حاضر کی دل برداشتگی،دہشت گردی اور معاشرے میں پھیلے خوف اور عدم تحفظ کا نوحہ ہے، لیکیریں،ما ورائے عدالت سرگرمیوں پر ایک احتجاج ہے۔

فنِ افسانہ نگاری میں بہت زیادہ گنجائش نہیں ہوتی بڑے محدود کینوس میں مکمل تصویر اور سبھی رنگ بھرنے ہوتے ہیں اور ایک ماہر مصور کی طرح عادل صاحب اس حوالے سے داد خواہ ہیں۔ان کے افسانوں کا ابتدائیہ بڑا الگ اور گرفت میں لے لینے والا ہوتا ہے۔وہ اپنی افسانوی عمارت کے لئے نقشہ کی تیاری میں خاصی محنت کرتے ہوں گے کہ نقشہ جتنا اچھا ہو گا افسانہ بھی اتنا ہی پر تاثیر ہو گا۔ ان کے افسانوں میں برجستہ کلمات اور جملے لکھے ملتے ہیں کہ جو کہانی کی بڑھوتری میں مدد دیتے ہیں اور لچکدار پلاٹ اپنے قصے کو منطقی انجام پہنچاتے ہیں۔ خاص طور پر ان کے افسانوں کے ابتدائیہ و اختتامیہ میں ایسے جملے پڑھنے کو ملتے ہیں جو قاری کی توجہ کہانی سے ہٹنے نہیں دیتے۔
یہ ابتدائیہ و اختتامیہ اگر الگ کر لیے جائیں تو یہ خود بھی مختصر افسانے بن سکتے ہیں۔یہ اکیلے جملے اس کہانی سے ہٹ کر کئی اورکہانیوں کو سوچنے کی دعوت دیتے ہیں۔چند ابتدائیہ و اختتامیہ جملے آپ کے لیے،ملاحظہ ہو:
” میں ۱۸۹ لکیروں سے اس کمرے میں قید ہوں۔۔یہ لکیریں کتنی راتیں یا کتنے دن ہیں مجھے پتہ نہیں،
مجھے یاد نہیں میں کب سے اسی کمرے میں ہوں۔ بہت دنوں تک تو مجھے یقین تھا کہ میں اس کمرے سےسے نکال لیا جاؤں گا۔ میں بھلا کیوں یہاں رہوں گا”۔
"بلکہ کل وہ اپنے کسی دوست سے موبائل پر بات کرتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ اس ڈائن نے مجھے میری ماں سےچھین لیا تھا”۔
"جسے آپ محبت کہہ رہے ہیں یہ آپ کی عادت ہے چونکہ ہم اکٹھے ہوتے ہیں اس لئے آپ کو میری عادت ہو گئی ہے۔ وہ کتنی آسانی یہ بات کہہ گئی،”
"ناصرہ حرام جنی تھی یا نہیں، مجھے نہیں پتہ مگر خدا قسم تو حرام جنا ہے ناصر۔۔۔ آخ تھو! تجھ پر اور تری صورت پر۔۔۔اور تف اس رات پر جس پر رات،میں تم کو ایسے ہی گندگی کے ایک ڈھیر سے اٹھا لایا تھا۔۔۔مگرتیرے آنے سے قبل میرے گھرمیں حرام جنا نہ تھا ورنہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”۔
"پتہ نہیں لکھنے والے اب زندگی کے عام رُخوں اور رویوں پر کیوں نہیں لکھتے”
منظر نگاری نظم و نثرمیں بہت اہم خوبی ہے۔ جس کے بغیر افسانہ تو خاص کر منظر نگاری اپنے موضوع سے انصاف نہیں کر سکتا ہے۔عادل سعید قریشی نے افسانوں میں اِس کا بھی حق اداکیا ہے۔ اُن کے افسانوں میں منظر نگاری سے بڑے سلیقے اور طریقے سے کام لیا گیا ہے جس کی مثالیں سب سے زیادہ دی جا سکتیں ہیں بالخصوص افسانہ ” نواں شہر” باقی افسانوں کی نسبت انکی منظرنگاری کے حوالے سے اہم ہے۔
” میرا گاؤں نواں شہر سات محلے اورپانچ حجرے، آٹھ لمبے چوڑے قبرستان گاؤں کے طرف لیٹے ہیں۔ان قبرستانوں کے درمیان ہزاروں چھوٹے بڑے مکان کھڑے ہیں جن کی چار دیواری پر دھڑکے کا پلستر ہوا ہوا ہے۔ یہاں گھر کی دیواروں اور بنیادوں پر جمی مٹی پر اندیشے، کٹھکے اوروسوسے اگتے ہیں۔۔۔سڑکیں پختہ مگر تشویش و یاس کی باڑ۔۔۔۔۔۔۔گلیوں میں چوکور نیلےگڑے اور اب انہی گلیوں میں بٹھے کی جلی بھنیاور پیاسی اینٹوں لگالی گئیں۔۔وہ باظرف پتھر پانی کو آگے دھکیلتے تھے اور اب۔۔۔۔۔”

ان کے افسانوں میں کرداروں کے نفسیاتی پہلو سے بھی لیا گیا ہے ہر افسانے میں بلا تخصیص نفسیاتی حوالے ملیں گے اور نواں شہر تو اس حوالے سے خاصے کی شے ہے۔عادل سعید قریشی کے سبھی کردار ہماری اِسی دنیا کے ہیں جہاں آپ اور میں روز اُن سے ملتے بھی ہیں اور مل سکتے بھی ہیں، وہ اُنہی کرداروں کے وہ رخ ہمیں دکھاتے ہیں جو ان کے افسانوں کو ہمہ ہمی بخشتے ہیں۔افسانہ ۱۲ مئی میں بیوی، نشان زد میں بیٹا،لمبو میں بانو،چاند روتا سورج کا ہیرو،معصومہ کے کردار اپنے نفسیاتی مسائل اور عارضوں سے لڑتے بھڑتے زندگیاں گزار رہے ہیں۔ یاد رہے کہ کردار زوجہ کا ہو یا محبوبہ کا ہو اُس کی تخلیق کے وقت اُس کردار کے نفسیاتی پہلو کا بھرپور خیال رکھا گیا ہے۔ جو قاری کے دھیان اور یقین کو حقیقی کردار کی تلاش پر اکساتا ہے۔ کرداروں کے نفسیاتی پہلوؤں کو ان کی نفسیات کے ڈھانچے کے ساتھ برتی گئی تحریریں مصنف کی اپنی نفسیات دکھا ئی دیتی ہے۔مثلاََ
” گھنٹہ بھر انتظار کے بعد مجھے ایک کمرے میں لے جایا گیا جس کے درمیان میں دو سیاہ چادریں لٹکا کر پردے کا اہتمام کیا گیا تھا۔ جب پیر جی کی معیت میں کمرے میں داخل ہوا تو پیر نے اپنی آمد کی اطلاع کھانس کر دی اور کھسر پھسر کی آوازیں آنا بند ہو گئیں ”
"پیر جی علاج ممکن ہے مگر وقت لگے گامیں خود علاج کروں گا اور اس طرح سے کہ بی بی کا پردہ بھی قائم رہے اور شریعت کی چھوٹ کے عین مطابق”۔
” لہٰذا میری وہ ماں جو کل تک تمہارے گھر جاتی اور وہاں تمہارے ماتھے چومتی تھی، آج صبح وہ میریاسی عمل کی تم سے توقع کرے گی”۔
” سسر جی دو میٹھے بول، وضو کے لئے گرم پانی اور بے وقت کی چائے کی متقاضی ہوں گے”۔
بات کی تاثیر کے لیے اور مبالغے کو غلو سے بچانے کے لیے شاعرا نہ ترکیب سے عادل سعید قریشی نے بھی کام لیا ہے وہ اپنی بات کو بہتر طورپر واضح کرنے کے لیے سوالات بھی اٹھائے ہیں جو ان کے مطالعے، مشاہدے،مجاہدے اور تجربے کی دین ہیں،یہی سوال وہ قاری کو بھی پیش کرتے ہیں تا کہ وہ بھی کہانی کے حظ سے دوہرا لطف اخذ کر سکے۔مثلاً
” رات کے اند ر خوف کیوں پھوٹتا ہے؟”
” تاریکی ہراس کیوں پھیلاتی ہے؟”
” رات کا سینہ اس قدر چوڑا کیوں ہے؟”
” محبت، قرب اور سنگت، رات کے ساتھ کیوں مخصوص ہیں؟”
” لکھنے والے اب زندگی کے عام رُخوں اور رویوں پر کیوں نہیں لکھتے؟”
” تاریکی کو روشن کرنے کے واسطے چاندنی کی کرنیں کیوں اپنی سینے اور شانوں پر سجانا چھوڑ دیں ”
"وہ لمحے کہاں گم ہوجاتے ہیں جن کے بھولنے کا بندہ تصوربھی نہیں کر سکتا”

عادل سعید قریشی کے افسانے عمدہ کرافٹنگ کاثبوت ہیں یہی خوبی ان کے افسانوں کو افسانوی حُسن دیتی ہے۔
موضوع کے اعتبار سے افسانے کے عنوان سے لے، واقعات میں ربط،کرداروں کا باہم ضبط، ہندکو کے لفظوں کے چناؤ اور ان کی اردو الفاظ کی بیث بیٹھک تک تمام تر ان کی بالیدہ کرافٹنگ کا ثبوت ہے۔اسی شعبے میں وہ فن کارانہ ہوشیاری اورتخلیقی شعورسے کام لیتے ہیں یہی وہ خصائص ہیں جو ان کے افسانوں میں تازگی ندرت اور جاذبیت پیدا کرتے ہیں، انکی کرافٹنگ دیکھی:
” یعنی میں سب کچھ ہار چکا تھا اور وہ بے خبر جیت چکی تھی۔ ایسی جنگوں کے فیصلہ یونہی قبل از جنگ ہو جایا کرتے ہیں اور فیصلہ ہو جانے کے بعد یہ جنگیں لڑی جاتیں ہیں ”
"میں ۱۸۹ لکیروں سے اس کرے میں قید ہوں ”
"آج کل یوٹرن کہانی کے بغیر کون لکھتا ہے”
” جانِ من یادیں اتنی مختصر کیوں ہوتی ہیں۔ گھنٹوں دنوں اور راتوں پر محیط زندگی، یاد کرنے بیٹھو تو پلک جھپکتے گزر جاتی ہیں ”
پروفیسر عادل سعید قریشی کی کتاب میں ایک نئی اصطلاح پڑھی "مکالماتی افسانہ”ٹائٹل افسانہ ہی مکالماتی افسانہ ہے۔ اردو ادب میں اس صنف ادب کا ایجاد کرنے کا سہر ا اِنہی کے سر ہے۔ مکالماتی شاعری کا نام سن رکھا تھا اب اس کتاب میں مکالماتی افسانہ کا حظ بھی اٹھایا اور بلاشبہ ایک اچھا اور انوکھا تجربہ کیا گیا ہے جو افسانے کی تمام شرائط پر پورا اتر رہا ہے۔
حاصل گفتگو یہ ہے کہ عادل سعید قریشی کا افسانوی مجموعہ میں ان کی ذات کا پرتو ضرور ہے اور ہوگا لیکن ہمارے ہزارہ کے گاؤں اور دیہات کے کلچر کی عمدہ نقوش ملتے ہیں۔انسانی جذبات اور احساسات کے رنگ اور کہانی پن کا اہتمام بھی ملتا ہے۔افسانوں میں چلتے پھرتے کردار ایک دوسرے کے ہم شکل نہیں لیکن ایک علاقے کے رہائشی ضرور ہیں اور ان کی مشابہتیں اور مسائل ہمیں اپنے اپنے لگتے ہیں ان کی چھوٹی موٹی خواہشات اور ٹوٹتے ارمان اور زندگی سے جڑی امیدیں ہمیں اپنے دل اور سینے میں موجود تمناؤں اور آرزوؤں سے ملتی جلتی لگتی ہیں۔چاند روتا سورج اردو کے جملوں پر ہندکو سے ترجمہ ہوئے ہونے کا گمان اس پاکستانی اردو کے تابناک مستقبل کا اعلان ہے جو ہماری اور آپ کی آرزوؤں کا مرکز ہے۔

سہیل احمد صمیمؔ

سہیل احمد صمیم

سہیل احمد صمیم (اردو اور ہندکو شاعر/ادیب)۔ تعلیمی قابلیت: بی بی اے آنرز (ایچ آر ایم)، ایل ایل بی اور ایم اے اردو گولڈ میڈلسٹ۔ شائع شدہ کتاب کا نام: اِلی النُور (نعتیہ شاعری)۔ زیرِ طبع کتب۔ 1. لایزال (دوسرا نعتیہ مجموعہ )۔ 2. خواب کہاں جاتی ہیں (اردو شعری مجموعہ ) 3. ہزار میں فارسی زبان و ادب کی روایت (تحقیق) دیگر حوالہ جات کالم نگاری : ادبی، تحقیقی اور تخلیقی مضامین مختلف ادبی رسائل اور پلیٹ فارمز میں شائع ہو تے رہتے ہیں۔ آپڑی ہندکو سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے بانی بھی ہیں جہاں ہندکو زبان و ادب کی ترویج و ترقی کے لئے کوشاں ہیں۔