وطن کے عشق میں بدعت نہیں کی
پرندے تھے مگر ہجرت نہیں کی
تحیر، ایسا کہ سکتے میں سب تھے
بہادر لوگ تھے جرات نہیں کی
وطن تیری محبت کا جنوں تھا
کسی بھی شے کی پھر چاہت نہیں کی
صبا نے روٹھ کر جب حبس اوڑھا
تو پھر پھولوں نے بھی نگہت نہیں کی
پگھل جاتے یہ پتھر کانچ بنتے
مگر جذبوں نے ہی حدت نہیں کی
ہواؤں پہ لکھا سانسوں سے ہم نے
تمارے لمس نے آہٹ نہیں کی
ہمارے درد نے گھنگھرو بجائے
کسی نے رقص کی ہمت نہیں کی
ڈاکٹر عرفان احمد بیگ