یہ بظاہر جو زندگی کی ہے

ڈاکٹر عرفان احمد بیگ کی ایک اردو غزل

یہ بظاہر جو زندگی کی ہے
ہم نے قسطوں میں خود کشی کی ہے

سر بہ شعلہ بدن پگھالا ہے
یوں شبِ ہجر روشنی کی ہے

بس دھوئیں سے لکھا سلگتے رہے
کیفیت ایک دائمی کی ہے

تیری پر چھائیوں کی خوشبو میں
بھیگی چادر یہ چاندنی کی ہے

لمس کے رنگ آہٹوں کے بھنور
اک حسیں یاد سانولی کی ہے

تھے صبا اور اب بگولہ ہیں
دشت رقصاں ہیں عاشقی کی ہے

سانس کی لے ہے دھڑکنوں کاردم
درد نے دل سے دوستی کی ہے

ایک مدت سے جو نہیں کھلتی
بات شاید وہ آگہی کی ہے

تجھ کو خود میں بسا کے باتیں کیں
لوگ کہتے ہیں شاعری کی ہے

ڈاکٹر عرفان احمد بیگ

ڈاکٹر عرفان احمد بیگ

نام۔ ڈاکٹر عرفان احمد بیگ،،تمغہ ء امتیاز،، ولد حسان احمد بیگ پیدائش۔ 12 دسمبر1954 ء کوئٹہ۔۔ تعلیم۔پی ایچ ڈی اردو،، ایم اے سوشل ورک،۔ایم اے ہسٹری۔ ایم اے ایجو کیشن (ریٹائر پر وفیسر محکمہ تعلیم بلوچستان ہائر ایجوکیشن اینڈ کالجز ) وزیٹنگ پروفیسر بلوچستان یو نیو رسٹی کو ئٹہ۔ بیوٹم یو نیو رسٹی کو ئٹہ۔ کالم نگار، تجزیہ نگار، فیچررائٹر، ادیب، شاعر، محقق، ماہرتعلیم، مورخ، روز نامہ۔ مشرق 1975 ء تا 1988 ء۔ روز نامہ جنگ 1988 ء تا 2017 ء روز نامہ ایکسپریس 1918 ء تا حال روزنامہ دن لاہور روز نامہ پاکستان۔ پی ٹی وی۔ ریڈیو پاکستان کو ئٹہ۔ لاہور۔ راولپنڈی۔ اسلام آباد۔پرائیویٹ ٹی وی چینلز شائع شدہ کتب۔۔ تعدا د 18۔ 80 فیصد شائع شدہ کتب ایوارڈ یافتہ انعام یافتہ مکان نمبر 9-14/3 اسٹیورٹ روڈ کو ئٹہ