یہ بظاہر جو زندگی کی ہے
ہم نے قسطوں میں خود کشی کی ہے
سر بہ شعلہ بدن پگھالا ہے
یوں شبِ ہجر روشنی کی ہے
بس دھوئیں سے لکھا سلگتے رہے
کیفیت ایک دائمی کی ہے
تیری پر چھائیوں کی خوشبو میں
بھیگی چادر یہ چاندنی کی ہے
لمس کے رنگ آہٹوں کے بھنور
اک حسیں یاد سانولی کی ہے
تھے صبا اور اب بگولہ ہیں
دشت رقصاں ہیں عاشقی کی ہے
سانس کی لے ہے دھڑکنوں کاردم
درد نے دل سے دوستی کی ہے
ایک مدت سے جو نہیں کھلتی
بات شاید وہ آگہی کی ہے
تجھ کو خود میں بسا کے باتیں کیں
لوگ کہتے ہیں شاعری کی ہے
ڈاکٹر عرفان احمد بیگ