ذہن کی نسوں میں وہ سوچ کو سجاتا ہے

ڈاکٹر عرفان احمد بیگ کی ایک اردو غزل

ذہن کی نسوں میں وہ سوچ کو سجاتا ہے
ایک سانولا چہرہ شہرِدل کا داتا ہے

جذب وکیف کی ساعت لمس جاں کی آہٹ میں
دھڑکنوں میں گھلتا ہے سانس میں سماتا ہے

کچھ اداس سے موسم، خوشگوار سی یادیں
زندگی کے کاغذ پر دھڑکنیں لکھاتا ہے

تتلیاں پکڑنے کی عمر تو نہیں لیکن
تتلیاں پکڑنے میں لطف اب بھی آتا ہے

یا د کے سمندر میں سوچ کے جزیروں پر
ایک چپ سے پاگل کو شہر کیوں ستاتا ہے

مجھ کو توڑ نے کی ضد، اک جنون ہے اُس کا
کر چیوں کے لہجے میں آئینہ دکھاتا ہے

ہم وفا کے سوداگر کچھ نفع نہیں لیتے
ہم فقیر لوگوں کو کیا سبق پڑھتا ہے

اک عجیب فطرت کا میرا دوست ہے عرفاں
خود اجاڑ دیتا ہے خود ہی پھر بناتا ہے

ڈاکٹر عرفان احمد بیگ

ڈاکٹر عرفان احمد بیگ

نام۔ ڈاکٹر عرفان احمد بیگ،،تمغہ ء امتیاز،، ولد حسان احمد بیگ پیدائش۔ 12 دسمبر1954 ء کوئٹہ۔۔ تعلیم۔پی ایچ ڈی اردو،، ایم اے سوشل ورک،۔ایم اے ہسٹری۔ ایم اے ایجو کیشن (ریٹائر پر وفیسر محکمہ تعلیم بلوچستان ہائر ایجوکیشن اینڈ کالجز ) وزیٹنگ پروفیسر بلوچستان یو نیو رسٹی کو ئٹہ۔ بیوٹم یو نیو رسٹی کو ئٹہ۔ کالم نگار، تجزیہ نگار، فیچررائٹر، ادیب، شاعر، محقق، ماہرتعلیم، مورخ، روز نامہ۔ مشرق 1975 ء تا 1988 ء۔ روز نامہ جنگ 1988 ء تا 2017 ء روز نامہ ایکسپریس 1918 ء تا حال روزنامہ دن لاہور روز نامہ پاکستان۔ پی ٹی وی۔ ریڈیو پاکستان کو ئٹہ۔ لاہور۔ راولپنڈی۔ اسلام آباد۔پرائیویٹ ٹی وی چینلز شائع شدہ کتب۔۔ تعدا د 18۔ 80 فیصد شائع شدہ کتب ایوارڈ یافتہ انعام یافتہ مکان نمبر 9-14/3 اسٹیورٹ روڈ کو ئٹہ