ذہن کی نسوں میں وہ سوچ کو سجاتا ہے
ایک سانولا چہرہ شہرِدل کا داتا ہے
جذب وکیف کی ساعت لمس جاں کی آہٹ میں
دھڑکنوں میں گھلتا ہے سانس میں سماتا ہے
کچھ اداس سے موسم، خوشگوار سی یادیں
زندگی کے کاغذ پر دھڑکنیں لکھاتا ہے
تتلیاں پکڑنے کی عمر تو نہیں لیکن
تتلیاں پکڑنے میں لطف اب بھی آتا ہے
یا د کے سمندر میں سوچ کے جزیروں پر
ایک چپ سے پاگل کو شہر کیوں ستاتا ہے
مجھ کو توڑ نے کی ضد، اک جنون ہے اُس کا
کر چیوں کے لہجے میں آئینہ دکھاتا ہے
ہم وفا کے سوداگر کچھ نفع نہیں لیتے
ہم فقیر لوگوں کو کیا سبق پڑھتا ہے
اک عجیب فطرت کا میرا دوست ہے عرفاں
خود اجاڑ دیتا ہے خود ہی پھر بناتا ہے
ڈاکٹر عرفان احمد بیگ