اداسی
گرد جمی ہے آئینے پر میز پہ رکھی ڈائری چپ ہے سوکھ چکی ہے قلم سیاہی اور کتابیں بھی گم سم ہیں شکن شکن ہے بستر سارا گجرے کب کے ٹوٹ چکے ہیں جیسے اس کمرے کے سارے ارماں تجھ بن روٹھ چکے ہیں
شازیہ اکبر
شاہد نسیم چوہدری (12 ربیع الاول پرخصوصی فیچر)
تحریر : غنی الرحمٰن انجم
تحریر : سہیل احمد صمیم
تحریر : پیر انتظار حسین مصور