اداسی
گرد جمی ہے آئینے پر میز پہ رکھی ڈائری چپ ہے سوکھ چکی ہے قلم سیاہی اور کتابیں بھی گم سم ہیں شکن شکن ہے بستر سارا گجرے کب کے ٹوٹ چکے ہیں جیسے اس کمرے کے سارے ارماں تجھ بن روٹھ چکے ہیں
شازیہ اکبر
پیر انتظار حسین کی ایک اردو غزل
سہیل احمد صمیمؔ کی نعتیہ نظم
تنویر اعوان کا ایک اردو کالم
ایک اردو تحریر از محمد یوسف برکاتی
شاعر : سہیل احمد صمیم