اداسی
گرد جمی ہے آئینے پر میز پہ رکھی ڈائری چپ ہے سوکھ چکی ہے قلم سیاہی اور کتابیں بھی گم سم ہیں شکن شکن ہے بستر سارا گجرے کب کے ٹوٹ چکے ہیں جیسے اس کمرے کے سارے ارماں تجھ بن روٹھ چکے ہیں
شازیہ اکبر
حسنین رافی کی ایک اردو غزل
میر حسن کی ایک اردو غزل
ایک اردو تحریر از محمد یوسف برکاتی