اداسی
گرد جمی ہے آئینے پر میز پہ رکھی ڈائری چپ ہے سوکھ چکی ہے قلم سیاہی اور کتابیں بھی گم سم ہیں شکن شکن ہے بستر سارا گجرے کب کے ٹوٹ چکے ہیں جیسے اس کمرے کے سارے ارماں تجھ بن روٹھ چکے ہیں
شازیہ اکبر
ایک اردو نظم از احمد حجازی
ایک اردو تحریر از محمد یوسف برکاتی
ایم اے دوشی کی ایک اردو غزل
ایک اردو تحریر از انور علی