میرے واجب الاحترام پڑھنے والو
اگر دیکھا جائے تو انسان کے لیئے زندگی میں سیکھنے اور سکھانے کی نہ تو کوئی عمر ہوتی ہے اور نہ ہی مقررہ وقت بلکہ اگر ہم تاریخ اسلام کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں بیشمار ایسے لوگوں کے بارے میں معلوم ہوگا جو اپنی عمر کے آخری حصے تک سیکھنے کے مراحل سے گزرتے رہے یہ ہی نہیں اگر آپ دنیا کی تاریخ اٹھاکر دیکھیں تو یہاں بھی بیشمار لوگوں کی فہرست آپ کو نظر آئے گی جو آخری وقت تک کچھ نہ کچھ سیکھتے رہنے کی تک و دو میں دکھائی دیتے تھے جناب تاریخ اسلام کا ایک عظیم نام حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ کسی بھی صاحب ایمان کے لیئے کسی تعارف کا محتاج نہیں کہا جاتا ہے کہ ایک دفعہ حضرت شیخ محمد جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ بغداد سے سیر کرنے کی غرض سے نکلے کچھ مرید بھی آپ علیہ الرحمہ کے پیچھے پیچھے چل دیئے حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ نے مریدوں سے پوچھا کہ کیا تم لوگوں کو بہلول کا حال معلوم ہے ؟ یعنی حضرت بہلول دانا رحمتہ اللہ علیہ تو لوگوں نے عرض کیا کہ جناب وہ تو ایک دیوانہ ہے آپ علیہ الرحمہ اس سے مل کر کیا کریں گے ؟ تو شیخ نے فرمایا مجھے اس سے ضروری کام ہے اسے تلاش کرو ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں مریدوں نے شیخ کے حکم کی تعمیل کرنا اپنے لیئے سعادت سمجھا اور یوں اسے کچھ جستجو کے بعد ایک صحرا میں ڈھونڈ نکالا اور شیخ کو اپنے ساتھ لیکر وہاں پہنچے حضرت شیخ جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ جب وہاں پہنچے تو کیا دیکھا کہ بہلول سر کے نیچے ایک اینٹ رکھ کر محو حیرت ہیں شیخ نے دیکھ کر سلام کیا تو بہلول نے جواب دیتے ہوئے پوچھا تم کون ہو ؟ تو فرمایا کہ میں جنید بغدادی ہوں تو کہا کہ اچھا تو تم ہی ابو القاسم ہو ( شیخ کا اصلی نام ) فرمایا ہاں میں ہی ہوں اچھا تو تم ہی ہو جو لوگوں کو بزرگوں کی باتیں سکھاتے ہو تو فرمایا کہ بس کوشش کرتا ہوں حضرت بہلول علیہ الرحمہ نے کہا اچھا تو پھر تم کھانا کھانے کا طریقہ بھی جانتے ہونگے فرمایا کیوں نہیں سب سے پہلے بسم اللہ پڑھتا ہوں اپنے سامنے رکھی ہوئی غذا کے چھوٹے چھوٹے نوالے بناتا ہوں آہستہ آہستہ چباتا ہوں کھاتے وقت بھی اللہ تعالیٰ کے ذکر سے غافل نہیں رہتا ہر لقمہ پر الحمدللہ کہتا ہوں کسی کے نوالے پر نظر نہیں رکھتا کھانے سے پہلے اور کھانے کے بعد ہاتھ دھوتا ہوں یہ سب سن حضرت بہلول آٹھ کھڑے ہوئے اور اپنا دامن شیخ پر جھٹکتے ہوئے کہا کہ تم انسانوں کے پیرو مرشد بننا چاہتے ہو اور حال یہ کہ تمہیں کھانے پینے کا طریقہ بھی نہیں آتا
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں سے اتنا لیکر بہلول اپنا راستہ لیکر آگے بڑھ جاتے ہیں لیکن شیخ اور ان کے مرید پھر ان کے پیچھے چلتے ہیں بہلول ایک ویرانے میں پہنچ کر ایک جگہ بیٹھ جاتے ہیں شیخ بغدادی ان کے پاس پہنچے تو پھر سوال کیا کہ تم کون ہو ؟ میں ہوں جنید بغدادی جس کے بارے میں تم نے کہا کہ مجھے کھانے طریقہ تک نہیں آتا تو بہلول نے کہا کہ تم کھانا کھانے کے طریقے اور اس کے آداب سے تو ناواقف ہو ہی لیکن کیا تمہیں گفتگو کا طریقہ بھی آتا ہے ؟ شیخ نے فرمایا جی ہاں میں بہت اچھی طرح جانتا ہوں بہلول نے کہا تو پھر بتائو تم لوگوں سے جس طرح بات کرتے ہو شیخ نے فرمایا کہ میں ہر بات اپنے اندازے کے مطابق کرتا ہوں بے حساب اور بے موقع بولتے رہنا میری عادت نہیں کہ سام ے والے کو سمجھ ہی نہ آئے سامنے والے کی سمجھ کا اندازہ کرکے خلق خدا کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے احکامات کی پیروی کرنے کی تلقین کرتا ہوں یہ بھی خیال رکھتا ہوں کہ لوگ میری باتوں سے بیزار نہ ہوں باطنی اور ظاہری علوم نکتہ نظر میں رکھتا ہوں اس کے علاوہ بھی شیخ جنید بغدادی نے کئی باتیں کہیں جنہیں سن کر بہلول نے کہا کہ کھانا کھانے کے آداب تو ایک طرف تمہیں تو بات کرنے کے ڈھنگ کا بھی علم نہیں یہ کہکر شیخ سے منہ موڑ کر آگے بڑھ گئے۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں مریدوں سے خاموش نہ رہا گیا اور کہنے لگے یا شیخ یہ شخص تو دیوانہ ہے آپ علیہ الرحمہ اس سے اب بھی توقع رکھتے ہیں ؟ تو شیخ بغدادی نے فرمایا کہ مجھے تو اس سے کام ہے اور تم اس بات کو نہیں سمجھو گے اس کے بعد شیخ بغدادی نے پھر بہلول کا پیچھا کیا بہلول نے جب آپ علیہ الرحمہ کو پیچھے آتے دیکھا تو رک گئے اور کہا کہ تمہیں نہ تو بات کرنے کا ڈھنگ آتا ہے اور نہ ہی کھانا کھانے کے آداب تو کیا تمہیں سونے کا طریقہ تو آتا ہی ہوگا ؟ شیخ نے فرمایا جی ہاں بالکل آتا ہے تو بہلول نے کہا کہ اچھا تو بتائو کا طرح سوتے ہو ؟ ﺷﯿﺦ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ ﺟﺐ ﻣﯿﮟ ﻋِﺸﺎﺀ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﻇﺎﺋﻒ ﺳﮯ ﻓﺎﺭﻍ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﺗﻮ ﺳﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﭼﻼ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﻮﮞ,ﯾﮧ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﺷﯿﺦ ﻧﮯ ﺳﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺁﺩﺍﺏ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﺌﮯ ﺟﻮ ﺍُﻧﮩﯿﮟ ﺑﺰﺭﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﮐﺌﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﮯ بہلول نے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ تمہیں سونے کا طریقہ اور اس کے آداب بھی نہیں معلوم یہ کہکر بہلول نے جیسے ہی جانا چاہا تو شیخ محمد جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ نے ان کا دامن پکڑ لیا اور فرمایا کہ بہلول اگر میں نہیں جانتا تو مجھے بتائو میں جاننا چاہتا ہوں تو بہلول نے کہا کہ شیخ تم نے جو جو باتیں کہیں وہ سب بعد کی باتیں ہیں جبکہ اصل معاملات کا تمہیں علم نہیں چلو میں بتاتا ہوں ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں بہلول نے کہا کہ اے شیخ کھانے کے آداب اور اس کے طریقے میں سب سے پہلے حلال کی روزی ہونا ضروری ہے اگر غذہ میں حرام کی آمیزش جائے تو جو آداب تم نے بیان کیئے ان پر عمل کرنے کا کوئی فائدہ نہیں اور دل روشن ہونے کی بجائے اور تاریک ہو جائے گا یہ سن کر حضرت شیخ جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا کہ اللہ تعالیٰ تمہارا بھلا کرے پھر بہلول نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا گفتگو کرتے وقت دل کا پاک ہونا بہت ضروری ہے جبکہ نیت کا صاف ہونا بھی شرط ہے اور اس بات کا خاص طور پر خیال رکھا جائے کہ جو بات بھی کہی جائے وہ صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیئے کہی گئی ہو ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﻏﺮﺽ ﯾﺎ ﺩُﻧﯿﺎﻭﯼ ﻣﻄﻠﺐ ﮨﻮ ﮔﺎ ﯾﺎ ﺑﺎﺕ ﻓﻀﻮﻝ ﻗِﺴﻢ ﮐﯽ ﮨﻮ ﮔﯽ ﺗﻮ ﺧﻮﺍﮦ ﮐﺘﻨﮯ ﮨﯽ ﺍﭼﮭﮯ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﯽ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﻟﺌﮯ ﻭﺑﺎﻝ ﺑﻦ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ ﺍﯾﺴﯽ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﺭﮨﻨﺎ ﺑﮩﺘﺮ ﮨﮯ۔پھر بہلول نے کہا کہ سونے کے متعلق جو تم نے فرمایا وہ بھی بنیادی باتیں نہیں بلکہ جب تم سونے لگو تو تمہارے دل سے کسی کے لیئے بھی بعض ، کینہ اور حسد جیسی چیزیں نکلی ہوئی ہوں اور تمہارا دل ان سب چیزوں سے پاک ہو دنیا کی محبت کا ایک قطرہ بھی نہ ہو اور جب تک نیند نہ جائے تب تک اللہ تعالیٰ کے ذکر مشغول رہو یہ باتیں سن کر شیخ محمد جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ نے بہلول کے ہاتھوں کو بوسہ دیا اور ان کے لیئے دعا کی آپ علیہ الرحمہ کے تمام مرید یہ دیکھ کر حیران رہ گئے اور بہلول کے متعلق جو خیالات تھے وہ سب درست ہوگئے ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں ﺣﻀﺮﺕ ﺟﻨﯿﺪ بغدادی رحمۃ اللہ علیہ ﺍﻭﺭ حضرت ﺑﮩﻠﻮﻝ دانا رحمتہ اللہ علیہ ﮐﮯ ﺍﺱ ﻭﺍﻗﻌﮯ ﺳﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﺳﺒﻖ ﯾﮩﯽ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮐﭽﮫ ﻧﮧ ﺟﺎﻧﻨﮯ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺟﺎﻧﻨﺎ ﮐﮧ ﮨﻢ ﺑﮩﺖ ﮐﭽﮫ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ, ﺑﮩﺖ ﻧﻘﺼﺎﻥ ﭘﮩﻨﭽﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺍﺻﻼﺡ ﺍﻭﺭ ﺗﺮﻗﯽ ﮐﮯ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﺑﻨﺪ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮔﻤﺮﺍﮨﯽ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﻨﺴﺎ ﺭﮦ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔
( ﺍﻟﺘﺰﻛﻴﻪ,ﺍﺻﻼﺡ ﻧﻔﺲ )
میرے محترم پڑھنے والوں انسان بہت کچھ حاصل کرنے کے بعد بھی سیکھنے کے مرحلے سے باہر نہیں نکل سکتا اسے مسلسل علم اور رہنمائی کی ضرورت رہتی ہے بلکہ اگر میں یہ کہوں تو غلط نہ ہوگا کہ آخری سانس تک بھی انسان کو کئی باتوں کا علم نہیں ہوتا اور اسے سیکھنے کی ضرورت پڑتی ہے اب آپ اندازہ لگایئے کہ حضرت شیخ محمد جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت اور ان کے علم کے حصول میں حضرت بہلول دانا علیہ الرحمہ کے پیچھے پیچھے جانا کیا معنی رکھتی ہے جبکہ نہ ہماری نمازیں صحیح ہیں نہ وضو صحیح ہے اور نہ ہی دوسری عبادتیں اور ہم انہیں صحیح کرنے کی غرض سے کسی اہل علم سے رابطہ کرنے کی کوشش بھی نہیں کرتے ہمیں شرم محسوس ہوتی ہے جبکہ ہم اپنا اور اپنی آخرت کا نقصان کرتے ہیں اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں بزرگوں کی زندگیوں کا مطالعہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ان کی طرح زندگی گزارنے کی بھی توفیق عطا فرمائے تاکہ ہمیں دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی حاصل ہو مجھے رب العزت سچ لکھنے ہمیں پڑھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین آمین بجاہ النبی الکریم ﷺ ۔مجھے دعائوں میں یاد رکھیئے گا ۔
محمد یوسف برکاتی