سنہرا لہجہ
ہونٹ سے پرے دل میں کام کی دعا ایسی۔۔۔ کس کو یہ خبر لیکن ،اِس سنہرے لہجے میں کھارے کھارے پانی سا۔۔۔ بد گمانیوں سے پُر زہر،ایسا گھل جائے ۔۔۔ جس سے ایک دم سارا سنہرا لہجہ۔۔۔دھل جائے !!!!
فرزانہ نیناں
حسنین رافی کی ایک اردو غزل
میر حسن کی ایک اردو غزل