سنہرا لہجہ
ہونٹ سے پرے دل میں کام کی دعا ایسی۔۔۔ کس کو یہ خبر لیکن ،اِس سنہرے لہجے میں کھارے کھارے پانی سا۔۔۔ بد گمانیوں سے پُر زہر،ایسا گھل جائے ۔۔۔ جس سے ایک دم سارا سنہرا لہجہ۔۔۔دھل جائے !!!!
فرزانہ نیناں
شاعر : سہیل احمد صمیم
ایک اردو غزل از رشید حسرت
رشید حسرت کی ایک اردو نظم
سہیل احمد صمیم کی ایک اردو غزل
سہیل احمد صمیمؔ کی نعتیہ نظم