وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

سہیل احمد صمیم کی ایک اردو غزل

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے
وہ اگر پاس بٹھائے تو خوشی ہوتی ہے

اس قدر زخم ملے ہیں مجھے خوابوں سے کہ اب
رات میں نیند نہ آئے تو خوشی ہوتی ہے

موسمِ دکھ میں اچانک کوئی اپنا آکر
مجھے سینے سے لگائے تو خوشی ہوتی ہے

چلتے چلتے کسی ویران سٹیشن پہ کوئی
دور سے ہاتھ ہلائے تو خوشی ہوتی ہے

صورتِ نثر ہمیشہ سے طبیعت اُس کی
وہ اگر شعر سنائے تو خوشی ہوتی ہے

جب بھی وہ میرا دیا پھول محبت سے صمیم
اپنے بالوں میں سجائے تو خوشی ہوتی ہے

سہیل احمد صمیم

سہیل احمد صمیم

سہیل احمد صمیم (اردو اور ہندکو شاعر/ادیب)۔ تعلیمی قابلیت: بی بی اے آنرز (ایچ آر ایم)، ایل ایل بی اور ایم اے اردو گولڈ میڈلسٹ۔ شائع شدہ کتاب کا نام: اِلی النُور (نعتیہ شاعری)۔ زیرِ طبع کتب۔ 1. لایزال (دوسرا نعتیہ مجموعہ )۔ 2. خواب کہاں جاتی ہیں (اردو شعری مجموعہ ) 3. ہزار میں فارسی زبان و ادب کی روایت (تحقیق) دیگر حوالہ جات کالم نگاری : ادبی، تحقیقی اور تخلیقی مضامین مختلف ادبی رسائل اور پلیٹ فارمز میں شائع ہو تے رہتے ہیں۔ آپڑی ہندکو سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے بانی بھی ہیں جہاں ہندکو زبان و ادب کی ترویج و ترقی کے لئے کوشاں ہیں۔