اپنی نیّت دیکھ لینا، پھر ہماری دیکھنا

ایک اردو غزل از رشید حسرت

اپنی نیّت دیکھ لینا، پھر ہماری دیکھنا
ہو تمہاری آنکھ سے چشمہ نہ جاری، دیکھنا

تم نے اپنی آنکھ کی تاثیر ہلکے میں تو، لی
دھیرے دھیرے ہو گا کوئی کیف طاری دیکھنا

خوف ایسا آپ نے پیدا کیا تھا ذہن میں
بیچ رستے سے پلٹ آئی بچاری دیکھ نا

راہ کی پیچیدگی بیزار کر دے گی تمہیں
مشورہ ہو گا کہ بہتر سی سواری دیکھنا

دیکھنا تم، سینکڑوں میں ایک دو رہ جائیں گے
آزما کر دوستوں کو باری باری دیکھنا

اجرتی قاتل کسی کا دوست ہوتا ہی نہیں
لے رکھی ہو گی تمہاری بھی سپاری، دیکھنا

کچھ نہیں پونجی ہماری صرف عزّت ہی تو ہے
زندگی ہم نے شرافت میں گزاری۔ دیکھنا

کل تلک تو راج کرتی تھی بڑی ہی شان سے
آج گر ناکام ہے قسمت کی ماری دیکھ ۔ نا

رخ پہ بارش، پھول پر شبنم کے قطرے جس طرح
اس پہ حسرتؔ زلف نے صورت نکھاری، دیکھنا

رشید حسرت، کوئٹہ
۰۸، ستمبر، ۲۰۲۶

رشید حسرت

رشید حسرت نے 1981 سے باقاعدہ شاعری کا آغاز کیا۔ ان کی شاعری اخبارات، ادبی رسائل اور کل پاکستان و کل پاک و ہند مشاعروں میں شائع اور پیش ہوتی رہی۔ پی ٹی وی کوئٹہ کے مشاعروں میں ان کی شرکت ان کی تخلیقی شناخت کا آغاز تھی، مگر بعد میں انہوں نے اجارہ داریوں اور غیر منصفانہ رویّوں سے تنگ آ کر اس نظام سے علیحدگی اختیار کی۔ ان کے پانچ شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ سب کے سب اپنی ذاتی جیب سے، جو ان کے خلوص اور ادب سے والہانہ لگاؤ کی علامت ہیں۔ رشید حسرت اس طبقے کے نمائندہ شاعر ہیں جنہوں نے ادب کو کاروبار نہیں بلکہ عبادت سمجھا۔