حاصلِ عشق کا ہر روز تماشا نہ کریں

شاعر : سہیل احمد صمیم

حاصلِ عشق کا ہر روز تماشا نہ کریں
لوگ تو لوگ ہوئے آپ تو ایسا نہ کریں

اک ذرا غور کریں میری حکایت پہ جناب
جلد بازی میں مری سوچ کا سودا نہ کریں

یاد ماں باپ کی آخر میں بڑی آئے گی
اپنے ماں باپ کی ہر چیز کو بیچا نہ کریں

اپنا اسلوبِ سخن پاس ہی رکھیں اپنے
جب کوئی شعر پڑھے بیچ میں ٹوکا نہ کریں

یہ نہ ہو نظمِ زمانہ میں خلل پڑ جائے
محترم یوں کسی درویش کو چھیڑا نہ کریں

آپ کے بس میں نہیں کام محبت والے
بس کریں آپ محبت کی تمنا نہ کریں

شرم سے خود میں سمٹ جاتی ہے وہ حسنِ غزال
سو گزارش ہے اسے غور سے دیکھا نہ کریں

سہیل احمد صمیم

سہیل احمد صمیم

سہیل احمد صمیم (اردو اور ہندکو شاعر/ادیب)۔ تعلیمی قابلیت: بی بی اے آنرز (ایچ آر ایم)، ایل ایل بی اور ایم اے اردو گولڈ میڈلسٹ۔ شائع شدہ کتاب کا نام: اِلی النُور (نعتیہ شاعری)۔ زیرِ طبع کتب۔ 1. لایزال (دوسرا نعتیہ مجموعہ )۔ 2. خواب کہاں جاتی ہیں (اردو شعری مجموعہ ) 3. ہزار میں فارسی زبان و ادب کی روایت (تحقیق) دیگر حوالہ جات کالم نگاری : ادبی، تحقیقی اور تخلیقی مضامین مختلف ادبی رسائل اور پلیٹ فارمز میں شائع ہو تے رہتے ہیں۔ آپڑی ہندکو سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے بانی بھی ہیں جہاں ہندکو زبان و ادب کی ترویج و ترقی کے لئے کوشاں ہیں۔