حاصلِ عشق کا ہر روز تماشا نہ کریں
لوگ تو لوگ ہوئے آپ تو ایسا نہ کریں
اک ذرا غور کریں میری حکایت پہ جناب
جلد بازی میں مری سوچ کا سودا نہ کریں
یاد ماں باپ کی آخر میں بڑی آئے گی
اپنے ماں باپ کی ہر چیز کو بیچا نہ کریں
اپنا اسلوبِ سخن پاس ہی رکھیں اپنے
جب کوئی شعر پڑھے بیچ میں ٹوکا نہ کریں
یہ نہ ہو نظمِ زمانہ میں خلل پڑ جائے
محترم یوں کسی درویش کو چھیڑا نہ کریں
آپ کے بس میں نہیں کام محبت والے
بس کریں آپ محبت کی تمنا نہ کریں
شرم سے خود میں سمٹ جاتی ہے وہ حسنِ غزال
سو گزارش ہے اسے غور سے دیکھا نہ کریں
سہیل احمد صمیم