Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
افسانہ چاہتے تھے وہ افسانہ بن گیا
خالی ابھی جام میں کچھ سوچ رہا ہوں
کب تلک چولہے جلائیں گی ہماری عورتیں
کوئی ہو جس کو مرا انتظار کوئی نہیں
دل میں ہماری یاد کو ٹھہراؤ دیکھ کر
پرانے وقت کی پرچھائی دیکھ لی میں نے
وجود چاٹنے لگتا ہے جب دکھن سے مجھے
یہ آگہی کی مسافت یہ ہاؤ ہو کی تھکن
زخم خوردہ سے ہیں
خواب تھا خواب کی پرچھائی مرے ساتھ رہی
تمام ہجر زدوں کا امام کر کے مجھے
آگہی کرب ہے
سوداگری
کوئی میرے خوابوں سے
<<
1
...
613
614
615
616
617
618
619
620
621
622
623
...
701
>>