Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
عہد طفلی
مرزا غالب
وُه شور ہے کہ یہاں کُچھ سُنائی دیتا نہیں
تمام عُمر اُسے مُجھ سے اِختِلاف رہا
شِکستہ دِل، تہی دامن، بچشمِ تر گیا آخر
کُچھ نہِیں پایا ہے ہم نے
لوگو! مُجھے اِس شہر کے آداب سکھا دو
یہ اور بات تیری گلی میں نہ آئیں ہم
اپنی تنہائی مرے نام پہ آباد کرے
قومی یکجہتی وقت کی ضرورت
گلاب ہاتھ میں ہو ، آنکھ میں ستارہ ہو
وہی پرند کہ کل گوشہ گیر ایسا تھا
بوڑھا تھا مگر عین جوانی میں کھڑا تھا
فلک پہ لے گا نہ مُجھ کو
<<
1
...
617
618
619
620
621
622
623
624
625
626
627
...
701
>>