Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
جذبوں کے تن پہ آئے ہوئے زخم چھیل کے
شب کی دیوار گرا دی ہے شفق زادی نے
بھُٹو تُم سے نہیں مرے گا
میں نے دیکھا ہے اُس کی آنکھوں مِیں
سازشوں کی زد میں !
پہنا ہے اس نے شوق سے جو پیرہن سفید
یوں بھی چھپتا ہے بھلا، وجد میں آیا ہُوا رنگ؟
نیند کی شان بڑھائے تو مزہ آ جائے
واسطہ پڑ گیا اذیت سے
خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ
میں جب احساس کے شہر میں پہنچا تو
چھمن کا فسانہ!
گہرے پانیوں والی آنکھیں !
جب ہم تھے جاں بلب تو شفا کی خبر ملی
<<
1
...
202
203
204
205
206
207
208
209
210
211
212
...
701
>>