سراب

شہزاد نیّرؔ کی ایک اردو نظم

سراب

ترے آبِ گُم کی تلاش پر

مری زندگی کی اساس ہے

مرے دل سے تیرے سراب تک

مرا راستہ تری آس ہے

وہ اِرم عدن کہیں کھو گئے

یہی چو بِ جاں مرے پاس ہے

یہی ریگِ دل مرا جسم ہے

یہی دشتِ درد لباس ہے

اسی دشتِ درد میں دور تک

تری آس ہے، مری پیاس ہے

شہزاد نیّرؔ

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔