اور وحشت ہے ارادہ میرا

ایک اردو غزل از ادریس بابر

اور وحشت ہے ارادہ میرا

حق ہے صحرا پہ زیادہ میرا

تو یہی کچھ ہے وہ دنیا یعنی

ایک متروک ارادہ میرا

رات نے دل کی طرف ہاتھ بڑھائے

یہ ستارا بھی ہے آدھا میرا

آب جو میں تو چلا جلدی ہے

اک سمندر سے ہے وعدہ میرا

دھول اڑتی ہے تو یاد آتا ہے کچھ

ملتا جلتا تھا لبادہ میرا

ادریس بابر

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔