وقار در جامۂ سپید

ایک اردو نظم از شاکرہ نندنی

سفید لباس میں وقار لیے بیٹھی ہوں
میں عکسِ وقت کی دیوار لیے بیٹھی ہوں

لبوں پہ خامشی، آنکھوں میں روشنی ہے مری
میں اپنی ذات کا اظہار لیے بیٹھی ہوں

نہ کوئی تاج، نہ دستار کی ہوس مجھ کو
میں سر پہ حرف کا سنگھار لیے بیٹھی ہوں

بدن پہ نور کی پوشاک سی لپٹی ہے
میں برف بنتی ہوئی نار لیے بیٹھی ہوں

نظر جھکائے کوئی دیکھ بھی نہیں سکتا
میں آئینہ ہوں، شرر بار لیے بیٹھی ہوں

یہ زیور و نگینہ، صرف اشارے ہیں
میں اک ہنر کی نمونہ کار لیے بیٹھی ہوں

کسی کی آنکھ کا احسان نہیں ہے مجھ پر
میں اپنی ذات کا اعتبار لیے بیٹھی ہوں

یہ میرا ظرف ہے، زخموں کو ہنر کہتی ہوں
میں شاکرہ ہوں، اسرارلیے بیٹھی ہوں

شاکرہ نندنی

شاکرہ نندنی

میں شاکرہ نندنی ہوں، ایک ماڈل اور ڈانسر، جو اس وقت پورٹو، پرتگال میں مقیم ہوں۔ میری پیدائش لاہور، پاکستان میں ہوئی، اور میرے خاندانی پس منظر کی متنوع روایات میرے ثقافتی ورثے میں جھلکتی ہیں۔ بندۂ ناچیز ایک ہمہ جہت فنکارہ ہے، جس نے ماڈلنگ، رقص، تحریر، اور شاعری کی وادیوں میں قدم رکھا ہے۔ یہ سب فنون میرے لیے ایسے ہیں جیسے بہتے ہوئے دریا کے مختلف کنارے، جو میری زندگی کے مختلف پہلوؤں کی عکاسی کرتے ہیں۔