Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
روٹھے ہوؤں کو منانا تو چاہیے
لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے
یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ
میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی
تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں
مرد کے حصے کا ہجر
ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا
زمیں کی بات کرتے ہیں
دمِ زندگی! چل ایک نیا الزام لیا جائے
امیر کون غریب کون
آدم ذات کو آدم ذات کی خبر نہیں
چیندک
گُلِ ماہتاب تم ہو
کتنی ہی دل افروز تھی شروعات ہماری
<<
1
...
709
710
711
712
713
714
715
>>