Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
اب یہ عالم ہے کہ غم کی بھی خبر ہوتی نہیں
تمہیں جو میرے غم دل سے آگہی ہو جائے
صراحی کا بھرم کھلتا نہ میری تشنگی ہوتی
حادثے زیست کی توقیر بڑھا دیتے ہیں
ہونٹوں پہ ہنسی آنکھ میں تاروں کی لڑی ہے
عادتاً بے وفا ہے ,جانے دو
اس زمیں آفتاب سے باہر
مدتوں ہم نے غم سنبھالے ہیں
دن چھپا اور غم کے سائے ڈھلے
غم چھیڑتا ہے ساز رگ جاں
جہان آرزو آواز ہی آواز ہوتا ہے
دل دیوانہ عرض حال پر
بقدر جوش جنوں تار تار بھی نہ کیا
طلب کی آگ کسی شعلہ رو سے روشن ہے
<<
1
...
283
284
285
286
287
288
289
290
291
292
293
...
701
>>