کس درجہ اکیلی ہے یہ یکتائی ہماری

میثم علی آغا کی ایک اردو غزل

کس درجہ اکیلی ہے یہ یکتائی ہماری
رو پڑتی ہے ملتے ہمیں تنہائی ہماری

یہ کون سے گھاؤ میں ابھی ٹیس اُٹھی ہے
ہنستے ہوئے کیوں آنکھ یہ بھر آئی ہماری

ہم اہلِ خرد عشق میں بے سُدھ ہوئے آخر
ہنستی رہی خود ہم پہ ہی دانائی ہماری

کیا زخم تھا جو زندگی بھر، بھر نہیں پایا
کیوں ہو ہی نہیں پائی مسیحائی ہماری

اب بھیج بھی دے اپنی قبا شاہِ شہ یوسف
لوٹا دے گئی عمر سے بینائی ہماری

اک عمر تلک مل ہی نہیں پایا نشاں تک
اک روز اچانک سے خبر آئی ہماری

ہم ضبط کی اس آخری منزل پہ تھے میثم
روتے ہوۓ آواز نہ بھرّائی ہماری

میثم علی آغا

میثم علی آغا

نام : میثم علی آغا بنیادی طور پر سیالکوٹ کی تحصیل پسرور سے تعلق ہے مگر پچھلے دس سال سے اٹلی میں مستقل مقیم ہوں کتابیں پکھی واس (پنجابی مجموعہ) میں تجھ کو یاد آؤں گا (اردو شعری مجموعہ) ابھی موسم سسکتے ہیں (اردو شعری مجموعہ) ارتجال (اردو شعری مجموعہ) در بدری: پاکستان سے اٹلی تک پیدل سفر کی کہانی (زیرِ طباعت) اٹالین زبان میں نظموں کا مجموعہ چھپ چکا ہے