کب سے ہم نے تیرے غموں کو سنبھال رکھا ہے
اس عشق میں نہ خود اپنا خیال رکھا ہے
جو کہتے تھے کہ تم ہی جانِ دو جہاں ہو میری
آج انہوں نے ہی دوری کا سال رکھا ہے
کبھی جو ہم سے جڑا تھا خوشی کا ہر اک لمحہ
اب اس دِل میں ہم نے بس ایک ملال رکھا ہے
بدل گئے وہ زمانے کے بدلنے کے ساتھ ہی
ہم نے ان کے بدلنے کا نام زوال رکھا ہے
ہماری آنکھوں سے بہتے ہوئے اشکوں کا نہ پوچھو
ہر اک قطرے میں چھپا ایک سوال رکھا ہے
جن کی یاد سے کبھی روشن تھی زندگی کی ہر راہ
مصورؔ اس کم بخت نے بھی دل سے نکال رکھا ہے
پیر انتظار حسین مصورؔ