​کب سے ہم نے تیرے غموں کو

پیر انتظار حسین کی ایک اردو غزل

​کب سے ہم نے تیرے غموں کو سنبھال رکھا ہے

اس عشق میں نہ خود اپنا خیال رکھا ہے

​جو کہتے تھے کہ تم ہی جانِ دو جہاں ہو میری

آج انہوں نے ہی دوری کا سال رکھا ہے

​کبھی جو ہم سے جڑا تھا خوشی کا ہر اک لمحہ

اب اس دِل میں ہم نے بس ایک ملال رکھا ہے

​بدل گئے وہ زمانے کے بدلنے کے ساتھ ہی

ہم نے ان کے بدلنے کا نام زوال رکھا ہے

​ہماری آنکھوں سے بہتے ہوئے اشکوں کا نہ پوچھو

ہر اک قطرے میں چھپا ایک سوال رکھا ہے

​جن کی یاد سے کبھی روشن تھی زندگی کی ہر راہ

مصورؔ اس کم بخت نے بھی دل سے نکال رکھا ہے

پیر انتظار حسین مصورؔ

پیر انتظار حسین مصور

السلام علیکم! امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے۔ میں پیر انتظار حسین مصور، ایک لکھاری کی حیثیت سے گزشتہ کچھ عرصے سے اردو ادب کے فروغ اور معاشرتی مسائل پر قلم فرسائی کر رہا ہوں۔ میرا کام باقاعدگی سے "ہم سب" اور "ڈیلی اردو کالمز" سمیت مختلف ادبی فورمز پر شائع ہوتا رہا ہے، جبکہ میں اپنا ذاتی بلاگ بھی باقاعدگی سے لکھتا ہوں۔