گُلِ ماہتاب تم ہو

میر حسن کی ایک اردو غزل

مری اُداس سی راتوں کا دل نشیں خواب تم ہو
جو دل کی شاخ پہ کھِلتا ہے، گُلِ ماہتاب تم ہو

تمہیں جو سوچ لوں، صحرا میں چاندنی اُترے
گُلِ ماہتاب کی صورت میرا گلاب تم ہو

تمہارے رُخ سے گُلِ ماہتاب ضیا مانگے
کہ حسنِ فطرت کا نایاب انتخاب تم ہو

گُلِ ماہتاب کے معنی تمہی سے سمجھے ہیں
میری محبت کا پہلا اور آخری نصاب تم ہو

میرے دل کے ورق پر گُلِ ماہتاب لکھا ہے
میری اَن کہی محبت کی وہ کتاب تم ہو

تمہارے نام پہ گُلِ ماہتاب جھوم اُٹھے
میری خاموش دھڑکن کا اِک رباب تم ہو

گُلِ ماہتاب پہ شبنم نے جو لکھا چپکے
مرے لبوں سے نہ نکلا، وہی جواب تم ہو

حسنؔ نے گُلِ ماہتاب کہہ کر چھپایا تمہیں
مگر ہر ایک غزل میں تو بے نقاب تم ہو

میر حسن

میر حسن

میرا نام حسنؔ ہے، جو کہ میرا ہی انتخاب ہے، تعلق منڈی بہاؤالدین، پنجاب سے ہے۔مادری زبان پنجابی ہے، مگر اردو سے بھی محبت ہے اور احساسات کو شعر میں ڈھالنے کا شوق۔ جو بات زبان کہنے سے رہ جائے، اسے قلم کے سپرد کر دیتا ہوں۔ محبت، ہجر اور زندگی کے اَن کہے احساسات میری شاعری کا محور ہیں۔