دل حویلی میں سدا بیٹھی رہیں چمگادڑیں

ایک اردو غزل از رشید حسرت

دل حویلی میں سدا بیٹھی رہیں چمگادڑیں
وہ بھی ایسی ہیں کہ پھر دیکھی نہیں چمگادڑیں

زیست کچھ ایسی گزاری جس طرح ویراں محل
جا بجا جالے دکھیں گے یا کہیں چمگادڑیں

سانجھ ہوتے ہی نمایاں ہو گئیں بہتات میں
دل گرفتہ ہو گۓ رو کر سہیں چمگادڑیں

پھوٹ کر ہم رو رہے تھے اپنے تیرہ بخت پر
اشک آنکھوں سے مگر بن کر بہیں چمگادڑیں

دوستو چمگادڑوں کا کچھ تدارک بھی تو ہو
ورنہ جم کر بیٹھ جائیں گی یہیں چمگادڑیں

دیکھنے میں جس قدر اچھی لگیِں اے دوستو
اُس قدر اندر سے میلی ہیں حسیں چمگادڑیں

جو جگہ ان کو ملے گی بیٹھ جانے کو رشیدؔ
حد سے بڑھ کر کھیل کھیلیں گی وہیں چمگادڑیں

رشید حسرتؔ
۰۵، اگست، ۲۰۲۶

رشید حسرت

رشید حسرت نے 1981 سے باقاعدہ شاعری کا آغاز کیا۔ ان کی شاعری اخبارات، ادبی رسائل اور کل پاکستان و کل پاک و ہند مشاعروں میں شائع اور پیش ہوتی رہی۔ پی ٹی وی کوئٹہ کے مشاعروں میں ان کی شرکت ان کی تخلیقی شناخت کا آغاز تھی، مگر بعد میں انہوں نے اجارہ داریوں اور غیر منصفانہ رویّوں سے تنگ آ کر اس نظام سے علیحدگی اختیار کی۔ ان کے پانچ شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ سب کے سب اپنی ذاتی جیب سے، جو ان کے خلوص اور ادب سے والہانہ لگاؤ کی علامت ہیں۔ رشید حسرت اس طبقے کے نمائندہ شاعر ہیں جنہوں نے ادب کو کاروبار نہیں بلکہ عبادت سمجھا۔