درد دل کو مرے نمو کرکے دل کو میرے لہو لہو کرکے
کیا ملا تجھ کو بول یار مرے درد سے مجھ کو روبرو کرکے
آئیے قہقے لگاتے ہیں آج کی شب غموں کو چھو کرکے
زندگانی نماز کو بخشی شاہ نے خون سے وضو کرکے
یہ اندھیرے مٹائیے غضنی روشنی گھر میں چارسو کرکے
غضنفر غضنی
میرا نام غضنفر حسین میرا قلمی نام غضنی میں کراچی میں مقیم ہوں
سہیل احمد صمیمؔ کی نعتیہ نظم
سراج احمد تنولی کی کتاب "دیا" (کالمز کا مجموعہ )، قلم کی روشنی اور عہد…
جس عورت کی گود میں انسان پہلی بار آنکھ کھولتا ہے، عجیب بات ہے کہ…
ایک اردو غزل از رشید حسرت
از قلم صنم فاروق حسین