چوگا چنتی چڑیا کے دُکھ

ایک اردو نظم از نجمہ منصور

چوگا چنتی چڑیا تیری پلکوں پر اُگنے والے
خوابوں کے انکھوئے
کون چُن سکتا ہے!
تو تو یہ بھی نہیں جانتی
جانے کب کوئی میلی نظروں کا جال تجھ پر پھینکے
اور تو بے نور آنکھوں کے پنجرے میں قید ہوکر
تمام عمر کے لیے
چہکنا بھول جائے
چڑیا تو تو پگلی ہے
چوگا چنتی خواب دیکھتی ہے
تجھے کیا معلوم ہے؟
کبھی کبھی خوابوں کی مانگ بھرنے کے لیے
آنکھوں کی ویران کھڑکیوں سے
ٹھٹھرے ہوئے رت جگے
بوند بوند دل کی زمین پر ٹپکتے ہیں تو
وہاں دور دور تک اُداسی بھرا جنگل
اُگ آتا ہے
جس پر سوائے دُکھ درد کے کوئی پھل نہیں لگتا
مگر بھولی چڑیا
تُو یہ سب نہیں جانتی
شاید کبھی جان بھی نہیں سکتی!!

نجمہ منصور

نجمہ منصور

نجمہ منصور ۹نومبر ۱۹۶۶ء کو سرگودھا میں پیدا ہوئیں۔ ۱۹۸۰ء میں میٹرک گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول سرگودھا سے کیا اور ایم۔اے تاریخ اور ایم۔اے ایجوکیشن کی ڈگری بھی حاصل کی۔ نجمہ منصور بنیادی طور پر نثری نظم کی شاعرہ ہیں شاعری کا آغاز کالج دور سے ہوا۔ پہلی کتاب 1990 میں شائع ہوئی مگر ان کا علمی و ادبی سفر صرف شاعری تک محدود نہیں رہا بلکہ وہ ایک بہترین ریسرچ اسکالر کے طور پر بھی اپنی ایک الگ پہچان رکھتی ہیں درس و تدریس کے شعبہ سے وابستہ رہی ہیں ان کی ایک کتاب ،، اگر نظموں کے پر ہوتے ،، کا ترجمہ انگریزی زبان میں بھی ہو چکا ہے۔ ان کی تقریباً دو درجن کے لگ بھگ کتابیں منظرِ عام پر آ چکی ہیں