قلم کا سفر

مصنف : پیر انتظار حسین مصور

قلم کا سفر: سچائی کی جنگ اور کانٹوں بھری سیج
باہر کھڑے تماشائیوں کے لیے یہ منظر کتنا سہانا ہوتا ہے کہ کوئی شخص ہاتھ میں قلم پکڑے، کاغذ پر الفاظ سجا رہا ہے۔ دنیا سمجھتی ہے کہ لکھنا شاید ایک پُرکشش مشغلہ ہے، ایک ایسی شہرت ہے جو بہت آسانی سے حاصل ہو جاتی ہے اور قلم کار کی زندگی پھولوں کی سیج ہے۔ لیکن کوئی نہیں جانتا کہ جب ایک لکھاری مصلحتوں کے اس بازار میں سچائی کی گواہی دینے نکلتا ہے، تو اسے کتنے ہی محاذوں پر اکیلے کھڑا ہونا پڑتا ہے۔ سچ لکھنے کی قیمت یہ ہے کہ آپ کو معاشرے کے ان بااثر لوگوں کے رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جن کا پورا وجود ہی جھوٹ اور مفاد پرستی کی بنیاد پر کھڑا ہوتا ہے۔ قلم کار کا یہ سفر عافیت کا سفر نہیں، بلکہ بغیر کسی خوف کے حقائق کو دنیا کے سامنے لانے کا نام ہے۔
یہاں سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ جب کوئی لکھاری مصلحت پسندی سے ہٹ کر خالص سچ کی آواز بنتا ہے، تو مفاد پرست لوگ اسے کسی ذاتی جنگ کا نام دے دیتے ہیں۔ حالانکہ سچا قلم کار کبھی خود غرض نہیں ہو سکتا۔ اگر وہ صرف اپنے فائدے، اپنی ذات یا اپنی کسی انفرادی لڑائی کے لیے لکھے، تو اس کا قلم ایک کاروباری اوزار بن کر رہ جائے گا۔ قلم کی سچی معراج تو یہ ہے کہ وہ تاریخ کے ان حقائق کا وکیل بنے جنہیں مقتدر طبقے ہمیشہ کے لیے مٹا دینا چاہتے ہیں۔ قلم کار کی جنگ دراصل اس مٹی کی سچی تاریخ کو بچانے کی جنگ ہوتی ہے۔ جب وہ تاریخ کے مسخ شدہ چہروں سے گرد ہٹاتا ہے، تو وہ کسی ایک شخص کے خلاف نہیں لڑ رہا ہوتا، بلکہ وہ اس پوری ذہنیت کے خلاف علمِ بغاوت بلند کرتا ہے جو جھوٹ کو نسل در نسل سچ بنا کر بیچتی آئی ہے۔
اس کٹھن اور کٹیلی راہ پر چلنے کا حوصلہ ہمیں اپنے ان عظیم اسلاف اور درویشوں کی زندگیوں سے ملتا ہے جن کا ذکر ہی روح کو تازگی بخشتا ہے۔ حضرت بابا حاجی شیر محمد شہیدؒ المعروف دیوان چاولی مشائخ جیسے عظیم تابعیِ رسول اور ہاشمی شہزادے، جن کا سچا نسب نامہ سیدنا عباس ابن عبدالمطلبؓ سے ملتا ہے، ہمارے لیے سچائی کا وہ روشن مینار ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب ان درویشوں نے حق کی شمع روشن کی، تو دنیا داروں نے ان پر کیچڑ اچھالنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی، لیکن انہوں نے صبر اور خاموشی کو اپنا شعار بنایا۔ ہمیں بھی ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے حق بات پر ڈٹ جانا چاہیے، چاہے اس کے لیے جان کی پرواہ بھی نہ کرنی پڑے۔ سچائی کی راہ میں اگر جان چلی بھی جائے تو یہ خسارے کا سودا نہیں، کیونکہ اس راہ میں مرنے والے تو شہید ہوتے ہیں اور شہید کبھی مرتے نہیں، بلکہ وہ ہمیشہ کے لیے زندہ ہو جاتے ہیں۔
لیکن مٹی پر بنے عارضی جھوٹے محلوں کے باسی اب بھی نئے نئے لبادے اوڑھ کر اس مانے ہوئے تاریخی سچ کو چھپانے کی لاحاصل کوششوں میں مصروف ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ شاید چند سستی اور من گھڑت کہانیاں تاریخ کے رخ کو موڑ دیں گی۔ مگر وہ بھول چکے ہیں کہ اب وقت کا دھارا بدل چکا ہے اور سچائی کے پہرے دار بیدار ہو چکے ہیں۔ اب جب حق کی گواہی بستی بستی گونج رہی ہے، تو آخر کس کس کا منہ بند کروایا جائے گا؟ کس کس کے قلم پر مصلحت کے قفل لگائے جائیں گے؟ اب ایک آواز کو دبایا جائے گا تو سو نئی آوازیں اس سچ کا علم لے کر کھڑی ہو جائیں گی۔ اب سچ کسی ایک فرد کا قیدی نہیں رہا، بلکہ یہ پوری دنیا کا مشترکہ سرمایہ بن چکا ہے۔
ایک سچے قلم کار کے راستے میں آزمائشیں بھی آئیں گی، اپنوں کی سرد مہریاں بھی ملیں گی اور دنیا کی عداوتیں بھی اس کا راستہ روکیں گی۔ لیکن عاجزی، صبر اور سچائی کا جو نور اس کے دل میں ہوتا ہے، وہ اسے کبھی جھکنے نہیں دیتا۔ قلم کار کی اصل فتح یہی ہے کہ وہ اپنی انا کو مٹی کر کے ان درویشوں کی سنت پر عمل کرتے ہوئے حق پر قائم رہے۔ مخالفین چاہے جتنے بھی چہرے بدل کر سامنے آئیں، وہ اس مسلمہ سچ کو کبھی نہیں مٹا سکتے جو اب دنیا تسلیم کر چکی ہے۔ سچائی کا یہ سفر جاری رہے گا، کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ چہرے بدل جاتے ہیں، جھوٹ کے رنگ اڑ جاتے ہیں، لیکن قلم کی نوک سے لکھا گیا حق کا ایک ایک لفظ ہمیشہ کے لیے امر ہو جاتا ہے۔

پیر انتظار حسین مصور

پیر انتظار حسین مصور

السلام علیکم! امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے۔ میں پیر انتظار حسین مصور، ایک لکھاری کی حیثیت سے گزشتہ کچھ عرصے سے اردو ادب کے فروغ اور معاشرتی مسائل پر قلم فرسائی کر رہا ہوں۔ میرا کام باقاعدگی سے "ہم سب" اور "ڈیلی اردو کالمز" سمیت مختلف ادبی فورمز پر شائع ہوتا رہا ہے، جبکہ میں اپنا ذاتی بلاگ بھی باقاعدگی سے لکھتا ہوں۔