چشمِ نم تیری حیرت میں

ایک اردو غزل از ارشاد نیازی

چشمِ نم تیری حیرت میں سمٹی ہوئی مشعلِ خواب کی بے زبانی کا دکھ
راکھ ہوتا نہیں بوکھلائی ہوئی وحشتوں کی سلگتی کہانی کا دکھ

کربلائے اذیت سے لپٹی رہی اک تمنائے تشنہ لبی کی لپک
اونگھتی منزلوں کا سفر , پاؤں شل اور ستم پانیوں کی روانی کا دکھ

شب ہتھیلی پہ بے چہرگی کا فسوں , خستگی اور اک نیند کا آئنہ
صبحِ ابہام کی دستکوں سے پرے , خواب اور عکس کی لامکانی کا دکھ

تجھ چھلے ہونٹ کے واہمے , ذائقے , آنکھ میں جب اترنے کی کوشش کریں
مجھ تہی دست کے روبرو شعلگی سے الجھتا اکستی جوانی کا دکھ

زرد ہاتھوں سے کھینچی ہوئی ہجر کی ان غلیلوں کے کنکر پہ کھلتا نہیں
وصل کے شہر میں سبزگی سینچتا , ہانپتا اک محبت پرانی کا دکھ

ارشاد نیازی

ارشاد نیازی

نیازی تخلص رکھنے والے ارشاد احمد17 اپریل 1979 کو سیالکوٹ ایک قصبے چوبارہ میں پیدا ہوئے ۔ والدہ گھریلو خاتون تھیں اور والد صاحب شعبہ ء حکمت سے وابستہ تھے چار بھائی ہیں ایک بھائی اور شاعری کرتا ہے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ہائی سکول چوبارہ سے، ایف اے پرائیوٹ اور بی اے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے کیا ۔