اے طلب زاد
غم رسیدہ روح کی زنجیر گر تم توڑ بھی ڈالو مری چپ کے قفل گر کھول بھی ڈالو تو آنکھوں کی نمی جو میری سانسوں میں جمی ہے اُس کی بوندیں کب تلک چنتے رہو گے؟ بے صدا صبحوں کو آخر کب تلک سنتے رہو گے؟
ناہید ورک
ایک اردو نظم از محمد یوسف برکاتی
تجدید قیصرکی ایک اردو غزل
اردو غزل از بشیر بدر
محمد یوسف میاں برکاتی کی ایک اردو نظم
ایک اردو غزل از ایم اے دوشی