اے طلب زاد
غم رسیدہ روح کی زنجیر گر تم توڑ بھی ڈالو مری چپ کے قفل گر کھول بھی ڈالو تو آنکھوں کی نمی جو میری سانسوں میں جمی ہے اُس کی بوندیں کب تلک چنتے رہو گے؟ بے صدا صبحوں کو آخر کب تلک سنتے رہو گے؟
ناہید ورک
شاعر : سہیل احمد صمیم
ایک اردو غزل از رشید حسرت
رشید حسرت کی ایک اردو نظم
سہیل احمد صمیم کی ایک اردو غزل
سہیل احمد صمیمؔ کی نعتیہ نظم