اے طلب زاد
غم رسیدہ روح کی زنجیر گر تم توڑ بھی ڈالو مری چپ کے قفل گر کھول بھی ڈالو تو آنکھوں کی نمی جو میری سانسوں میں جمی ہے اُس کی بوندیں کب تلک چنتے رہو گے؟ بے صدا صبحوں کو آخر کب تلک سنتے رہو گے؟
ناہید ورک
حسنین رافی کی ایک اردو غزل
ایک اردو غزل از رشید حسرت
میر حسن کی ایک اردو غزل