تاروں کی چلمنوں سے کوئی

اردو غزل از بشیر بدر

تاروں کی چلمنوں سے کوئی جھانکتا بھی ہو
اس کائنات میں کوئی منظر نَیا بھی ہو

اتنی سَیاہ رات میں کس کو صدائیں دوں
ایسا چراغ دے جو کبھی بولتا بھی ہو

میں کس طرح یہ مان لُوں فصلِ بہَار
اِک پھُول تو کھلے کوئی پتہ ہرا بھی ہو

وہ میرے ساتھ چل سکے ، اُس دھُوپ چھاؤں میں
محبوب خوش مزاج ہو، غم آشنا بھی ہو

دُنیا بدل گئی ہے ابھی اور بدلے گی
کیسے کہوں کہ آنکھ میں شرم و حیا بھی ہو

وہ چاند تو نہیں ہے مگر چاند کی طرح
ان پتھروں کی اوٹ سے اب جھانکتا بھی ہو

بشیر بدر

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔