زخم اپنے گلاب کر دینا

ایک غزل از نجمہ کھوسہ

زخم اپنے گلاب کر دینا

روح کو ماہتاب کر دینا

ڈال کر اک نظر محبت کی

سب کو تم لا جواب کر دینا

روح کے زخم روشنی دیں گے

ہجر کو آفتاب کر دینا

پتھروں سے اگر جو بچنا ہو

عکس کو بھی سراب کر دینا

باب لکھنا ہو زندگی کا اگر

چاہتوں کو نصاب کر دینا

اپنی تعبیر ڈھونڈنے کے لئے

اپنی آنکھوں کو خواب کر دینا

خود کو مسمار کر کے شاہیں تم

اک ستارہ شہاب کر دینا

نجمہ کھوسہ

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔