ذوق ِ منزل نے مٹایا ہے رسائی کا دکھ
آگیا راس مجھے آبلہ پائی کا دکھ
مول کنگن کا کسی بیوہ سے پوچھو تو سہی
تم کو بتلاۓ گی وہ سونی کلائی کا دکھ
ہم گنہگارِ محبت تھے سزا کے قائل
اس پہ لاحق دلِ وحشی کی دہائی کا دکھ
ہاتھ پھیلائے دعا گو ہے اسی دکھ میں ماں
دل سے ہو دور مرے دست حنائی کا دکھ
زلف سلجھاتے ہوۓ خود سے الجھ پڑتی ہوں
یاد جب آۓ تری نغمہ سرائی کا دکھ
کب تلک اوروں کی خاطر میں بہاؤں آنسو
مجھ سے اٹھتا نہیں اب زیست پرائی کا دکھ
بزم راس آتی نہیں اور مجھے خلوت میں
کاٹ کھاتا ہے فقط زخمِ جدائی کا دکھ
رانی اس واسطے آزادی کو ٹھکرایا ہے
ایک پنجرے کو نہ ہو میری رہائی کا دکھ
روبینہ صدیق رانی