یونہی مل بیٹھنے کا کوئی بہانہ نکلے

احمد فراز کی ایک اردو غزل

یونہی مل بیٹھنے کا کوئی بہانہ نکلے
بات سے بات فسانے سے فسانہ نکلے

پھر چلے ذکر کسی زخم کے چِھل جانے کا
پھر کوئی درد کوئی خواب پرانا نکلے

پھر کوئی یاد کوئی ساز اُٹھا لے آئے
پھر کسی ساز کے پردے سے ترانہ نکلے

یہ بھی ممکن ہے کہ صحراؤں میں گم ہو جائیں
یہ بھی ممکن ہے خرابوں سے خزانہ نکلے

آؤ ڈھونڈیں تو سہی اہلِ وفا کی بستی
کیا خبر پھر کوئی گم گشتہ ٹھکانہ نکلے

یار ایسی بھی نہ کر بات کہ دونوں رو دیں
یہ تعلق بھی فقط رسمِ زمانہ نکلے

یہ بھی ہے اب نہ اٹھے نغمۂ زنجیر فرازؔ
یہ بھی ہے ہم سا کوئی اور دِوانہ نکلے

احمد فراز

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔