دشت غربت میں ترا چھوڑ کے جانا

روبینہ صدیق رانیؔ کی ایک اردو غزل

دشت غربت میں ترا چھوڑ کے جانا مرے دوست
بن گیا چشمِ گہر بار بہانہ مرے دوست

زندگی کر دی گئی مجھ پہ مسلط لیکن
جینے دیتا نہیں کمبخت زمانہ مِرے دوست

ہوگا شب زاد بھی تو نیر بہاتا پیہم
اتنا آسان ہے کب ساتھ بھلانا مرے دوست

کیا ملا بانجھ تعلق کی مسافت سے بتا
تھا مناسب یہی گھر لوٹ کے آنا مرے دوست

ہے فقط رنجِ بلا خیز وراثت میری
کرب و غم آہ و فغاں میرا خزانہ مرے دوست

شکر صد شکر غمِ زیست کو کچھ لفظ ملے
تھا کٹھن بارِ تبسم کو اٹھانا مرے دوست

ہو مبارک تجھے غیروں سے شناسائی تری
گر اجازت! تری رانی ہو روانہ مرے دوست

روبینہ صدیق رانی

روبینہ صدیق رانی

نام روبینہ صدیق قلمی نام :روبینہ صدیق رانی 23 اپریل 1996روشنیوں کےشہر کراچی میں پیدا ہوئی اپنی ابتدائی تعلیم یہیں سے حاصل کی اور اپنی باقی زندگی بھی یہیں گزارنے کا ارادہ رکھتی ہوں ۔ شاعری کے ساتھ ساتھ نثر میں بھی طبع ازمائی کر چکی ہوں ۔ فی الحال کوئی شعری مجموعہ نہیں ۔