اے محبت تو مجھے جینے کی آشا دیتی

روبینہ صدیق رانیؔ کی ایک اردو غزل

اے محبت تو مجھے جینے کی آشا دیتی
زندگی یوں نہ مرے ہاتھ میں کاسہ دیتی

تو نے الفت کے تقاضوں کو نبھایا ہوتا
وار کر خود کو محبت بے تحاشہ دیتی

شہر غربت نے جنہیں بخشی ہے وحشت، اے کاش
کوئی بستی انہیں خوشیوں کا بچھونا دیتی

آتا ہے تم کو ہی مفلس کا تماشا کرنا
میں جو ہوتی تو انہیں منہ کا نوالہ دیتی

ہیں جو مامور حفاظت پہ سپاہی اپنے
رات دن ، ان کو دعاوں کا خزانہ دیتی

چھوڑ جانی ہے جب اک روز یہ دنیا رانی
زہر نفرت سے بھرا میں کسے پیالہ دیتی

روبینہ صدیق رانی

روبینہ صدیق رانی

نام روبینہ صدیق قلمی نام :روبینہ صدیق رانی 23 اپریل 1996روشنیوں کےشہر کراچی میں پیدا ہوئی اپنی ابتدائی تعلیم یہیں سے حاصل کی اور اپنی باقی زندگی بھی یہیں گزارنے کا ارادہ رکھتی ہوں ۔ شاعری کے ساتھ ساتھ نثر میں بھی طبع ازمائی کر چکی ہوں ۔ فی الحال کوئی شعری مجموعہ نہیں ۔