کیا کیا نہیں دۓ جہاں بھر نے لقب مجھے

روبینہ صدیق رانیؔ کی ایک اردو غزل

کیا کیا نہیں دۓ جہاں بھر نے لقب مجھے
دنیا سے کچھ غرض نہیں کافی ہے رب مجھے

صبر و سکون چھن گیا غارت ہوا قرار
اس ہجر نے زمانے میں بخشا ہے کب مجھے

تعبیر ِ خواب نے کئے پامال سارے خواب
بیٹھا ہے ایسا ڈر کہ جگاتی ہے شب مجھے

دشت ِ جنوں میں اڑتی ہے اب تو مری بھی خاک
ہاں موت بھی نہ دے سکی اک سہل ڈھب مجھے

نفرت کے بیج بو دئے دھرتی پہ لوگوں نے
چاہت خیالِ خام ہی لگتی ہے سب مجھے

اشکوں سے رانی پیاس کبھی بجھ سکی ہے کیا
تشنہ لگے ہیں آج بھی صحرا کے لب مجھے

روبینہ صدیق رانی

روبینہ صدیق رانی

نام روبینہ صدیق قلمی نام :روبینہ صدیق رانی 23 اپریل 1996روشنیوں کےشہر کراچی میں پیدا ہوئی اپنی ابتدائی تعلیم یہیں سے حاصل کی اور اپنی باقی زندگی بھی یہیں گزارنے کا ارادہ رکھتی ہوں ۔ شاعری کے ساتھ ساتھ نثر میں بھی طبع ازمائی کر چکی ہوں ۔ فی الحال کوئی شعری مجموعہ نہیں ۔