یاں تک آئے اپنے سہارے آگے وحشت جس کو پکارے
جس کو اتنا ڈھونڈ رہے ہیں جانے وہ کس گھاٹ اتارے
تیری آس پہ آرزوؤں نے ہر رستے میں پاؤں پسارے
ہم نے جب پتوار سنبھالے ابھرے طوفانوں سے کنارے
دنیا کو ہے شغل سے مطلب تم ہارو یا باقیؔ ہارے
باقی صدیقی
ڈاکٹر عرفان احمد بیگ کی ایک اردو نظم
محمد عمیر سالک کی ایک اردو نظم
محمد عمیر سالک کی ایک اردو غزل