یاں تک آئے اپنے سہارے آگے وحشت جس کو پکارے
جس کو اتنا ڈھونڈ رہے ہیں جانے وہ کس گھاٹ اتارے
تیری آس پہ آرزوؤں نے ہر رستے میں پاؤں پسارے
ہم نے جب پتوار سنبھالے ابھرے طوفانوں سے کنارے
دنیا کو ہے شغل سے مطلب تم ہارو یا باقیؔ ہارے
باقی صدیقی
صنم فاروق کی ایک اردو نظم
ایک اردو غزل از رفیق لودھی
محبت کا جہاں لکھا، وفاؤں کا سماں لکھا ہوا ربّ مہرباں میں نے کبھی جو…
ایک اردو غزل از رشید حسرت
بہزاد لکھنوی کی ایک اردو غزل