یاں تک آئے اپنے سہارے آگے وحشت جس کو پکارے
جس کو اتنا ڈھونڈ رہے ہیں جانے وہ کس گھاٹ اتارے
تیری آس پہ آرزوؤں نے ہر رستے میں پاؤں پسارے
ہم نے جب پتوار سنبھالے ابھرے طوفانوں سے کنارے
دنیا کو ہے شغل سے مطلب تم ہارو یا باقیؔ ہارے
باقی صدیقی
ایک اردو غزل از اویس خالؔد
ایک اردو نظم از احمد حجازی
ایم اے دوشی کی ایک اردو غزل