یاں تک آئے اپنے سہارے آگے وحشت جس کو پکارے
جس کو اتنا ڈھونڈ رہے ہیں جانے وہ کس گھاٹ اتارے
تیری آس پہ آرزوؤں نے ہر رستے میں پاؤں پسارے
ہم نے جب پتوار سنبھالے ابھرے طوفانوں سے کنارے
دنیا کو ہے شغل سے مطلب تم ہارو یا باقیؔ ہارے
باقی صدیقی
نگار فاطمہ انصاری کی ایک اردو غزل
میر حسن کی ایک اردو غزل
حسنین رافی کی ایک اردو غزل